دہلی دھماکے کے خلاف جموں و کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں کینڈل مارچ کا اہتمام
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
مظاہرین نے دہلی میں ہوئے بلاسٹ کی مذمت کی اور متاثرین اور انکے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں دہلی میں لال قلعہ کے پاس ہوئے دھماکے کے خلاف کینڈل مارچ کا اہتمام کیا گیا۔ اس احتجاجی مارچ میں سوپور اور آس پاس کے گاؤں سے تمام طبقات کے لوگوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے دہلی میں ہوئے بلاسٹ کی مذمت اور متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ موم بتیاں اور پلے کارڈز اٹھائے لوگوں نے امن و اتحاد کو فروغ دینے پر زور دیا۔ کینڈل مارچ کے شرکاء نے ہر قسم کی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔ مظاہرین نے کہا کہ اس کا مقصد ہم آہنگی کو بگاڑنا تھا۔ اس دوران دھماکے میں مارے گئے لوگوں کے لئے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ تقریب کا اختتام امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے اجتماعی عہد کے ساتھ ہوا۔
واضح رہے کہ دہلی میں چند روز قبل ایک زبردست دھماکہ ہوا جس میں 12 سے زائد لوگوں کی جان چلی گئی۔ اس واقعے کے بعد جموں و کشمیر میں سکیورٹی ایجنسیوں نے مختلف اضلاع میں تقریباً 200 مقامات پر چھاپے مارے، جگہ جگہ پر ناکہ چیکنگ میں تیزی لائی گئی اور تقریباً 100 لوگوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس کی جانب سے کل سوپور میں بھی جماعت اسلامی کشمیر سے وابستہ افراد کے خلاف چھاپے مارے گئے۔ اسی کے ساتھ گزشتہ روز ایک ایڈوائزری بھی جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا کا استعمال بہتر سے کریں اور اگر کوئی شخص سوشل میڈیا پر غلط کام کرتے ہوئے ملوث پایا گیا تو اس کے ساتھ قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔