ٹنڈوجام میونسپل کارپوریشن میں شہر کی صفائی پر سختی
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت) ٹنڈوجام میونسپل کارپوشن میں شہر کی صفائی پر سختی فجر سے پہلے صفائی کرنے والے عملے کی عبدالستار چوک پر حاضری شہر کو وقت پر صفائی سے بہت سی وبائی بیماریوں سے بچایا جا سکتاہے۔ تفصیلات کے بعد فجر کی نماز کے بعد عبدالستار ایدھی چوک پر سردی کے اندر صفائی کرنے والے عملے کی ایک بڑی تعداد اپنے آفیسر شبیر چانڈیو اور ٹھیکدار بشیر کمہار کے ہمراہ جمع تھی۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ ڈائریکٹر ہیلتھ اور صٖفائی نعیم بلوچ نے سختی کے ساتھ ہدایت کی ہے کہ شہرکو مکمل طور پر صاف رکھا جائے اس میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے شہر کو صاف ستھرا رکھ کر ہم وبائی امراض ملیریا اور ڈینگی سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا یہ چوک شہر کا مرکزہے یہاں سے پورا صفائی کا عملہ حاضری لگا کر شہر کے ہر حصے میں جائے گا اور اپنے صفائی کے کام کا آغاز کرے گا جس کی نگرانی ہم کریں گے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ رات کو کچرا اپنے گھروں باہر رکھ دیں اور قریبی کوڑا دان میں پھینک دیں تاکہ صفائی کا عملہ وقت پر اپنا کام انجام دے سکے۔ انہوں نے کا شہر کی صاف ستھر رکھنا ہر ایک کا فرض ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔