لائرز پروٹیکشن ایکٹ کے تحت وکلا کو مالی نقصان پر ہرجانہ دیا جائے گا، وزیرقانون کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ وکلا کو نقصان پر لائرز پروٹیکشن ایکٹ کے تحت ہرجانہ یا معاوضہ دیا جائے گا۔
وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ سے مختلف بار ایسوسی ایشنز کے نمائندگان نے اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ، راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار، سیالکوٹ، منڈی بہاؤالدین، جڑانوالہ، لالیاں، ملکوال، میاں چنوں، پسرور اور شکرگڑھ بار کے صدور اور عہدیداروں نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کی عدالتوں سے انصاف تول کر کرنے کی اپیل
ملاقات میں وکلا کے نمائندگان نے وزیرِ قانون کے وکلا کی فلاح و بہبود کے اقدامات، خاص طور پر لائرز پروٹیکشن ایکٹ پر خراجِ تحسین پیش کیا اور حکومت کے تعاون کو سراہا۔
وزیرِ قانون نے کہا کہ وکلا اور حکومت کے تعلقات مضبوط ہونا ضروری ہیں اور پیشہ ورانہ معیار کی بہتری حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وکلا کے لیے کمپنسیشن پیکیجز لائرز پروٹیکشن ایکٹ کے تحت فراہم کیے جائیں گے، جو طویل مدتی مثبت نتائج کا حامل ہوں گے۔
ملاقات میں بار لائبریریز، بار رومز اور وکلاء کے لیے جاری گرانٹس پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جس سے وکلا کی سہولتوں اور تحقیقی معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اعظم نذیر تارڑ بارز ایسوسی ایشنز پاکستان لائرز پروٹیکشن ایکٹ وزیر قانون وکلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ بارز ایسوسی ایشنز پاکستان وکلا اعظم نذیر تارڑ
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔