وزیراعظم کی ہدایت پر سوشل فنانسنگ فریم ورک پر کام ہو رہا ہے، وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر سوشل فنانسنگ فریم ورک پر کام ہورہا ہے۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب میں سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ 300 سے زائد رجسٹرڈ کمپنیاں فلاحی اقدامات کے لیے فنڈنگ کر رہی ہیں۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کو ساز گار ماحول کی فراہمی حکومت کی ذمے داری ہے، حکومتی کاوشوں کی بدولت ملک نے معاشی استحکام حاصل کرلیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی جانب سے فلاحی کاموں کے لیے فنڈ کی دستیابی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ملک کی ترقی کےلیے سب کو اپنا کردار اد اکرنا ہوگا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومتی اقدامات سے معیشت درست سمت پر گامزن ہے، نجی شعبے کا ملکی معیشت میں اہم کردار ہوتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ قوموں کی ترقی میں چیلنجز آتے رہتے ہیں، متحد ہوکر ہی ان پر قابو پایا جاسکتا ہے، ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کےلیے اصلاحات متعارف کرائیں۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ کسانوں کے نقصانات کے تخمینے کےلیے کمیٹی بنائی ہے، اس وقت اہم چیز لوگوں کی امداد ہے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر سوشل فنانسنگ فریم ورک پر کام ہو رہا ہے، جس سے سماجی شعبے میں خاطر خواہ بہتری آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ برٹش ایشین ٹرسٹ کی مدد سے پاکستان میں اسکلز ڈیولپمنٹ پر کام جاری ہے، کارپوریٹ سیکٹر سماجی کاموں میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ سیلاب میں قوم نے آگے بڑھ کر ایک دوسرے کی خدمت کی، کارپوریٹ سیکٹر میں رضا کارانہ کاموں کے لیے فنڈز 25 ارب روپے سے بڑھانا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سینیٹر محمد اورنگزیب نے نے کہا کہ پر کام
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔