جہلم (نامہ نگار) وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وزیر مملکت خزانہ اور ریلوے بلال اظہر کیانی اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس پر دہشت گرد حملے میں شہید، ضلع جہلم سے تعلق رکھنے والے سید سجاد حسین شاہ کی صاحبزادی کے گھر گئے، شہید کے اہلخانہ سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔ وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے شہید سید سجاد حسین شاہ کی صاحبزادیوں سمیت اہل خانہ سے تعزیت کی۔ وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے اہل خانہ کو تعزیت کا پیغام پہنچایا، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر دیگر شہداء کی طرح سید سجاد حسین شاہ کے اہل خانہ کو بھی شہید پیکج ملے گا، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کی شہید کے اہل خانہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سید سجاد حسین شاہ کے بچوں کی دیکھ بھال ریاست کرے گی۔ وزیر مملکت نے اس موقع پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کو شہید کے اہل خانہ سے مکمل تعاون کی بھی ہدایت کی۔ وزیر مملکت اظہر کیانی نے کہا کہ جہلم شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین ہے، دہشت گرد اسلام اور انسانیت دونوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دہشت گردی کے خاتمے کے دوٹوک وژن پر کاربند ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سید سجاد حسین شاہ بلال اظہر کیانی وزیر مملکت شہباز شریف اہل خانہ کے اہل

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری