وزیراعظم کی ہدایت پر سجاد حسین شاہ کے اہلخانہ کو شہید پیکج ملے گا: بلال اظہر کیانی
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
جہلم (نامہ نگار) وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وزیر مملکت خزانہ اور ریلوے بلال اظہر کیانی اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس پر دہشت گرد حملے میں شہید، ضلع جہلم سے تعلق رکھنے والے سید سجاد حسین شاہ کی صاحبزادی کے گھر گئے، شہید کے اہلخانہ سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔ وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے شہید سید سجاد حسین شاہ کی صاحبزادیوں سمیت اہل خانہ سے تعزیت کی۔ وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے اہل خانہ کو تعزیت کا پیغام پہنچایا، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر دیگر شہداء کی طرح سید سجاد حسین شاہ کے اہل خانہ کو بھی شہید پیکج ملے گا، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کی شہید کے اہل خانہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سید سجاد حسین شاہ کے بچوں کی دیکھ بھال ریاست کرے گی۔ وزیر مملکت نے اس موقع پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کو شہید کے اہل خانہ سے مکمل تعاون کی بھی ہدایت کی۔ وزیر مملکت اظہر کیانی نے کہا کہ جہلم شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین ہے، دہشت گرد اسلام اور انسانیت دونوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دہشت گردی کے خاتمے کے دوٹوک وژن پر کاربند ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سید سجاد حسین شاہ بلال اظہر کیانی وزیر مملکت شہباز شریف اہل خانہ کے اہل
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔