وزیراعظم نے ارلی وارننگ سسٹم کو فوری طور پر مربوط بنانے کی ہدایت کی ہے، مصدق ملک
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوبائی حکام کے ساتھ مل کر 250 روزہ شارٹ ٹرم منصوبے کے تحت ملک بھر میں آفات سے متعلق تمام ابتدائی وارننگ سسٹمز کو ضلعی اور تحصیل سطح پر مربوط کرے گی تاکہ سیلاب سے قبل بروقت انخلا اور اثاثوں کی محفوظ منتقلی ممکن بنائی جا سکے۔
کوشش ہے کہ آئندہ مون سون میں اتنا نقصان نہ ہو جو اس سال ہوا ہے، وزیراعظم نے ارلی وارننگ سسٹم کو فوری طور پر مربوط بنانے کی ہدایت کی ہے،طویل مدتی حکمت عملی کے تحت پانچ سال میں موسمیاتی مطابقت کا حامل انفراسٹرکچر تیار کرنا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ مشترکہ نظام مقامی انتظامیہ کو نہایت اہم وقت اور بروقت ردعمل دینے کے قابل بنائے گا جس سے آئندہ مون سون کے دوران نقصانات میں نمایاں کمی آئے گی۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی زیر صدارت منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں نے دریا، سیلاب، پہاڑی ریلوں، شہری سیلاب اور ساحلی علاقوں کے خطرات سمیت تمام موسمیاتی خطرات کا جائزہ لیا اور مختصر، درمیانی اور طویل المدتی اقدامات پر مشتمل ایک قومی لچکدار روڈ میپ کی منظوری دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت مختلف محکموں میں بکھرے ہوئے وارننگ سسٹمز موجود ہیں جن کی وجہ سے تاخیر اور بدانتظامی پیدا ہوتی ہے، وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ تمام ڈیٹا سیٹس کو یکجا کر کے اسسٹنٹ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر میں ریئل ٹائم سکرینز پر دکھایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پہلا الارم اسلام آباد میں نہیں بلکہ تحصیل اور ضلع کی سطح پر بجے گا تاکہ امدادی اداروں اور کمیونٹیز کو پانی پہنچنے سے قبل بروقت الرٹس مل سکیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ 250 روزہ مختصر مدتی مرحلے کے تحت تمام نکاسی آب کی نہروں اور فلڈ گیٹس کی بحالی کی جائے گی جبکہ شہری علاقوں کے بند یا متاثرہ ڈرینیج سسٹمز کو بھی پیشگی درست کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلابوں سے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور 2 ملین کے قریب بچے تعلیم سے محروم ہوئے، منصوبے کے تحت تباہ شدہ علاقوں میں عارضی تعلیمی انتظامات کئے جائیں گے تاکہ بے گھر ہونے کی صورت میں بھی تعلیم جاری رہے۔
اس کے علاوہ ایک موبائل ایمرجنسی ہیلتھ کیئر نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہےجو موقع پر بنیادی علاج اور فوری سرجریز کی سہولت دے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اگرچہ ابتدائی منصوبہ صوبائی آبپاشی، زراعت اور ڈیزاسٹر محکموں سے مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے لیکن وزیر اعظم نے مکمل صوبائی حکمت عملی کو یقینی بنانے کے لئے مزید مشاورت کی ہدایت کی ہے۔
غیر قانونی تجاوزات بارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے دریاؤں کے کناروں پر بااثر گروپوں کی جانب سے تعمیر کردہ ہوٹلوں اور ریزورٹس کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے اور زوننگ قوانین کے خلاف تعمیرات کی اجازت دینے والوں سے پوچھ گچھ کا بھی حکم دیا ہے۔
طویل المدتی منصوبے میں حکومت کا ہدف دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کی بحالی، خطرے کے زونز میں بنی آبادیوں کی نشاندہی، بلند خطرات والے علاقوں میں نئی تعمیرات کی روک تھام اور موجودہ بستیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو صرف شدید گرمی کا ہی سامنا نہیں بلکہ سردیوں کی شدت اور موسمی تغیر پذیری بھی بڑھ رہی ہے اس لئے آئندہ لچکداری منصوبہ بندی میں دونوں موسموں کے تقاضے شامل کئے جا رہے ہیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اصل مسئلہ مالی وسائل نہیں بلکہ نظم و نسق کی کمزوریاں اور عملدرآمد میں تاخیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2017 میں شروع کئے گئے 20 سے 30 ملین روپے کے بعض منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہو سکےحالانکہ 8سال میں تو ایک نیا شہر بھی آباد ہو سکتا ہے،تاخیر سے بچنے کے لئے وزیر اعظم ہر سہ ماہی میں پیشرفت کا جائزہ لیں گے، وزارتی کمیٹی ماہانہ اجلاس کرے گی جبکہ عملدرآمد ٹیم ہر ہفتے میٹنگ کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی پوری موسمیاتی حکمت عملی عوام کے سامنے لائے گی اور شہریوں کو جوابدہی کیلئے سوال پوچھنے کی ترغیب دے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے بچے قابلِ قربان نہیں، ہمیں انہیں ایسا مستقبل دینا ہے جہاں آفات بار بار سب کچھ نہ بہا لے جائیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کہا کہ 2026 سے پہلے نظام مون سون کا نظام وضع کرنے کا ہے ،ہر سال پاکستان میں موسمی شدت کا اضافہ ہورہا ہے،گلگت بلتستان میں زائد برف پڑے گی،2026 میں مون سون 22 سے 26 فیصد زیادہ شدید ہوسکتاہے۔
انہوں نے کہا کہ31لاکھ لوگوں کو سیلاب میں ریسکیو کیا گیا،اس کے لئے معاشی بوجھ کو صوبوں اور وفاق نے مل کر برداشت کیا،جون کے بعد ہیٹ ویوو کی بنا ءپر گلیشئیرز کے تیزی سے پگھلنے کا امکان ہے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ پاکستان کی عمومی صورتحال اور 6 سے 8 ماہ کی پیش گوئی دینایہ شاید دنیا میں صرف این ڈی ایم اے کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سموگ کا مسئلہ اسلام آباد سمیت کئی علاقوں میں بڑھ جاتا ہے،اس میں 45 فیصد حصہ ٹرانسپورٹ کاہے جبکہ 20 سے 30 فیصد صنعت کا حصہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کی ہدایت کی ہے ڈی ایم اے وفاقی وزیر ملک نے کہا مصدق ملک کے تحت
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں