اسلام آباد: ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس کی سکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک : وفاقی دارالحکومت میں قائم ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس کی سکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس میں سکیورٹی سے متعلق اجلاس ہوا جہاں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز جسٹس اعظم خان، جسٹس انعام امین منہاس اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججزز، ہائیکورٹ بارکے صدر واجد گیلانی شریک ہوئے جب کہ ڈی آئی جی سکیورٹی اور اے آئی جی اسپیشل برانچ نے سکیورٹی انتظامات پر بریفنگ دی۔
کیمیکل انجینئرنگ کے ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر محمد علی انتقال کرگئے
ذرائع کے مطابق اجلاس میں کمپلیکس کےداخلی دروازے پر واک تھرو گیٹ کے ساتھ اسکینرز بھی نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اب سائلین کےسامان کو اسکینرز سے سکیورٹی کلیئرنس کے بعد ساتھ لےجانے کی اجازت دی جائے گی۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ اجلاس میں انٹری گیٹ کے ساتھ زگ زیگ گرل بھی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس کی چھتوں پر اسنائپرز تعینات کرنے کی تجویز ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کےلیے وکلا کو ٹریننگ اور فرضی مشق کروائی جائے گی۔
اسلام آباد دھماکے پر عالمی برادری کاپاکستان سے یکجہتی کا اظہار
ذرائع کے مطابق کمپلیکس کی سکیورٹی پرتعینات اہلکاروں کے موبائل فون کے غیرضروری استعمال پر پابندی ہوگی جب کہ اجلاس میں ایک ایمبولینس کمپلیکس کے باہر مستقل کھڑی رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کمپلیکس کی کا فیصلہ
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔