سابق بنگلہ دیش وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے کہا ہے کہ ان کی وطن واپسی کا دارومدار ’شمولیتی جمہوریت‘ کی بحالی، عوامی لیگ پر عائد پابندی کے خاتمے اور آزاد، منصفانہ اور جامع انتخابات کے انعقاد پر ہے۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بھارت میں ایک نامعلوم مقام سے دیے گئے خصوصی ای میل انٹرویو میں حسینہ واجد نے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

انہوں نے کہا کہ غیر منتخب ڈاکٹر یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو خطرے میں ڈالتے ہوئےانتہا پسند قوتوں کو بااختیار بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ عبوری حکومت کی خارجہ پالیسی کے برعکس، ان کے دور میں ڈھاکا اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات ’وسیع اور گہرے‘ تھے، اور یہ تعلقات ’یونس دور کی حماقتوں‘ سے متاثر نہیں ہونے چاہییں۔

PTI INFOGRAPHICS | PTI Exclusive Interview with ousted former Bangladesh PM Sheikh Hasina

In an exclusive email interview with Press Trust of India from an undisclosed location in India, ousted former Bangladesh prime minister Sheikh Hasina said her return home hinges on the… pic.

twitter.com/nUAVJYUcxZ

— Press Trust of India (@PTI_News) November 12, 2025

شیخ حسینہ نے بھارتی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارتی حکومت اور عوام کی میزبانی پر بے حد شکر گزار ہیں۔

’میری بنگلہ دیش واپسی کی سب سے اہم شرط وہی ہے جو عوام چاہتے ہیں، جمہوریت کی بحالی۔‘

شیخ حسینہ واجد کا کہنا تھا کہ عبوری حکومت کو عوامی لیگ پر پابندی ختم اور آزاد، منصفانہ اور جامع انتخابات کرانے ہوں گے۔

مزید پڑھیں: بھارت نے شیخ حسینہ کی میزبانی کرکے بنگلہ دیش سے تعلقات خراب کیے، محمد یونس

شیخ حسینہ نے، جو بنگلہ دیش کی طویل ترین عرصے تک وزیر اعظم رہنے والی رہنما ہیں، 5 اگست 2024 کو ملک چھوڑ دیا تھا۔

ان کے استعفے سے قبل کئی ہفتوں تک ملک میں پُرتشدد احتجاج جاری رہا، جس کے نتیجے میں وہ بھارت منتقل ہوئیں اور یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت قائم ہوئی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی حکومت نے احتجاجی صورتِ حال کو غلط طریقے سے سنبھالا، تو 78 سالہ رہنما کا مؤقف تھا کہ یقیناً ان کی حکومت حالات پر قابو کھو بیٹھی تھی۔

مزید پڑھیں:سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی رہائشگاہ کو میوزیم میں تبدیل کردیا گیا

’جو افسوسناک ہے، ان واقعات سے کئی سبق حاصل ہوئے ہیں، مگر کچھ ذمہ داری اُن نام نہاد طلبا رہنماؤں پر بھی عائد ہوتی ہے جنہوں نے ہجوم کو بھڑکایا۔‘

انہوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اگر عوامی لیگ کو انتخابات سے باہر رکھا گیا تو ایسے انتخابات غیر قانونی اور غیر جمہوری ہوں گے۔

’لاکھوں لوگ عوامی لیگ کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر ہمیں باہر رکھا گیا تو یہ ملک کے لیے ایک بڑی بدقسمتی ہوگی۔ ہمیں عوام کی حقیقی رضامندی پر مبنی حکومت کی ضرورت ہے۔‘

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: شیخ حسینہ واجد کو توہین عدالت پر 6 ماہ قید کی سزا

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ پابندی ختم کی جائے گی۔ ’چاہے ہم حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، عوامی لیگ کو سیاسی مکالمے کا حصہ ہونا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیشہ بنگلہ دیش کا سب سے اہم بین الاقوامی تعلق رہا ہے اور یونس حکومت نے ’احمقانہ اور خود تباہ کن‘ پالیسیوں سے نئی دہلی کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے۔

’محمد یونس کی بھارت دشمنی انتہائی احمقانہ اور خود کو نقصان پہنچانے والی ہے۔ وہ ایک کمزور اور غیر منتخب حکمران ہیں جو انتہا پسندوں پر انحصار کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھیں:شیخ حسینہ کا گھر ان کے اپنے بیان کی وجہ سے منہدم ہوا، بنگلہ دیش حکومت

’امید ہے کہ وہ مزید سفارتی غلطیاں نہیں کریں گے۔‘

بھارت میں موجود شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے حسینہ نے کہا کہ عبوری حکومت بنگلہ دیش کے عوام کی نمائندہ نہیں۔ بھارت ہمارا سب سے قریبی دوست تھا، ہے اور رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ بین الاقوامی نگرانی میں مقدمہ چلانے کے لیے تیار ہیں، حتیٰ کہ عالمی فوجداری عدالت میں بھی، مگر الزام لگایا کہ یونس حکومت اس سے گریزاں ہے کیونکہ غیر جانب دار عدالت انہیں بری قرار دے گی۔

مزید پڑھیں:حوالگی کی بنگلہ دیشی درخواست کے باوجود شیخ حسینہ کے بھارتی ویزے میں توسیع

’میں نے بارہا یونس حکومت کو چیلنج کیا کہ اگر ان کے پاس ثبوت ہیں تو میرا مقدمہ عالمی فوجداری عدالت میں لے جائیں، لیکن وہ ایسا نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایک غیر جانب دار عدالت مجھے ضرور بری کردے گی۔‘

انہوں نے بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کو ’جعلی عدالت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ان کے خلاف سزائے موت کی کارروائی ’سیاسی انتقام‘ ہے۔

’وہ مجھے اور عوامی لیگ دونوں کو سیاسی طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں، مخالفین کو دبانے کے لیے سزائے موت جیسے حربے استعمال کرنا اس بات کی علامت ہے کہ انہیں نہ تو جمہوریت کی پرواہ ہے اور نہ انصاف کے تقاضوں کی۔‘

مزید پڑھیں:شیخ حسینہ کی فسطائیت کا شکار بنگلہ دیش میں قید 178 نیم فوجی اہلکاررہا

شیخ حسینہ کے مطابق، محمد یونس کو کچھ مغربی لبرل حلقوں کی خاموش حمایت حاصل رہی، جو اب ان کی انتہا پسندوں کو حکومت میں شامل کرنے، اقلیتوں کے خلاف امتیاز برتنے اور آئین کو کمزور کرنے کے بعد پیچھے ہٹنے لگے ہیں۔

’اب جب وہ دیکھ رہے ہیں کہ محمد یونس نے شدت پسندوں کو اپنی کابینہ میں شامل کیا ہے، اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا ہے، اور آئینی ڈھانچے کو توڑا ہے، تو امید ہے وہ اپنی حمایت واپس لے لیں گے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت حسینہ واجد عالمی فوجداری عدالت عبوری حکومت عوامی لیگ نئی دہلی وطن واپسی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت حسینہ واجد عالمی فوجداری عدالت عبوری حکومت عوامی لیگ نئی دہلی وطن واپسی انہوں نے کہا کہ شیخ حسینہ واجد عبوری حکومت مزید پڑھیں عوامی لیگ بنگلہ دیش محمد یونس کے لیے

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی