بلوچستان، 30 نومبر تک دفعہ 144 کا نفاذ، عوامی اجتماعات پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
محکمہ داخلہ بلوچستان کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق بلوچستان بھر میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری، عوامی اجتماعات اور عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت بلوچستان نے صوبے بھر میں 30 نومبر تک دفعہ 144 نافذ کر دیا۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق بلوچستان بھر میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری، عوامی اجتماعات اور عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ خواتین اور بچوں کو ڈبل سواری کی پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ اعلامیہ کے مطابق عوامی مقامات پر نقاب یا چہرہ ڈھانپنے، مفلر، ماسک وغیرہ کے استعمال اور غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکل، سیاہ شیشے اور ہتھیاروں کے استعمال و نمائش پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، دھرنوں اور ریلیوں پر بھی پابندی ہوگی۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سلفیورک ایسڈ یا دھماکا خیز مواد کی نقل و حرکت پر بھی مکمل پابندی عائد ہے۔ خلاف ورزی پر کارروائی تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت ہوگی۔ پولیس، لیویز اور ایف سی کو حکم نامے پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنرز کو روزانہ عملدرآمد رپورٹ محکمہ داخلہ کو ارسال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ پابندیاں 5 نومبر کے نوٹیفکیشن میں ترمیم کرکے لگائی گئیں، پابندیاں 30 نومبر 2025 تک نافذالعمل رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پابندی عائد پر پابندی گئی ہے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔