آئین میں ترمیم کا اختیار صرف عوامی نمائندوں کو حاصل ہے، فہیم خان
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما پی ٹی آئی کراچی نے کہا کہ آئین میں ترامیم کا اختیار صرف عوامی منتخب نمائندوں کے پاس ہوتا ہے، چور دروازے سے اقتدار میں آنے والے عوام کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے، عوام مخالف فیصلوں سے مزید انتشار پھیلے گا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریکِ انصاف کراچی ڈویژن کے سینئر نائب صدر و سابق ایم این اے فہیم خان نے انصاف ہاس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس وقت آئین و قانون کی بالادستی ختم ہو چکی ہے، 26ویں ترمیم کے ذریعے آئین کو ٹوڑا گیا اور اب 27ویں ترمیم کے ذریعے اسے ٹکڑے ٹکڑے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک کو مضبوط بنانا ہے تو سیاسی استحکام لانا ہوگا، یہ ممکن نہیں کہ ملک کی سب سے بڑی عوامی جماعت کو دیوار سے لگاکر بند کمروں میں عوام مخالف فیصلے کیے جائیں۔ فہیم خان نے کہا کہ 180 نشستیں جیتنے والی جماعت کے سربراہ عمران خان کو ناحق دو سالوں سے قید میں رکھا گیا ہے، ایوانوں میں عوامی نمائندوں کی جگہ مینڈیٹ چوروں کو مسلط کیا گیا ہے، جس کے باعث حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں، اگر سیاسی استحکام نہ لایا گیا تو صورتحال مزید سنگین ہو جائے گی۔
فہیم خان نے کہا کہ آئین میں ترامیم کا اختیار صرف عوامی منتخب نمائندوں کے پاس ہوتا ہے، چور دروازے سے اقتدار میں آنے والے عوام کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے، عوام مخالف فیصلوں سے مزید انتشار پھیلے گا۔ فہیم خان نے کہا کہ آئین و قانون کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور عمران خان سمیت تمام سیاسی اسیران کی رہائی کے لیے پوری قوم کو باہر نکلنا ہوگا، کیونکہ عمران خان اس قوم کے حقوق کے لیے جیل میں پابندِ سلاسل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو عوامی تحریک میں شامل ہو کر ملک کو چور حکمرانوں سے نجات دلانی ہوگی، تاکہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے اور ملک میں انصاف کی حکمرانی قائم ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔