data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور: پنجاب میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کو برقرار رکھنے کی غرض سے انتظامیہ نے دفعہ 144 کے تحت عائد پابندیوں کی مدت میں ایک ہفتے کی توسیع کر دی ہے۔

محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پابندیوں کی مدت میں اب 15 نومبر تک اضافہ کر دیا گیا ہے، تاکہ صوبے بھر میں کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے یا انتشار کو پیشگی روکا جا سکے۔

حکمنامے کے تحت پنجاب میں ہر طرح کے احتجاجی مظاہروں، سیاسی اجتماعات، ریلیوں، دھرنوں اور جلوسوں پر عائد ممانعت سختی کے ساتھ برقرار رہے گی۔ یہ پابندی ان تمام سرگرمیوں کا احاطہ کرتی ہے جو بڑے عوامی اجتماعات کا سبب بن سکتی ہیں اور جس سے امن عامہ کو خطرہ لاحق ہونے کا اندیشہ ہو۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ دفعہ 144 کے تحت کئی دیگر پابندیاں بھی شامل ہیں جن پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔ ان میں چار یا چار سے زائد افراد کے عوامی مقامات پر ایک ساتھ جمع ہونے پر مکمل پابندی شامل ہے۔

اس کے علاوہ اسلحہ کی نمائش کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے، تاکہ کسی بھی قسم کے تشدد یا خوف و ہراس پھیلانے والے اقدامات کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ نیز لاؤڈ اسپیکر کے غیر ضروری اور عمومی استعمال پر بھی مکمل ممانعت عائد کی گئی ہے۔ حکومتی احکامات کی رو سے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال صرف اذان دینے اور جمعہ کا خطبہ دینے کے لیے کیا جا سکے گا۔

پابندی کا ایک اور اہم پہلو اشتعال انگیز، نفرت آمیز یا فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت، تشہیر اور تقسیم پر عائد ممانعت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟

ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔

عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا