بلوچستان میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری اور منہ ڈھانپنے پر پابندی لگ گئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک: حکومتِ بلوچستان نے صوبہ بھر میں دفعہ 144 کے تحت موٹر سائیکل کی ڈبل سواری اور منہ ڈھانپنے پر پابندی عائد کر دی۔
وزارت داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبہ بھر میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہوگی، خواتین اور بچوں کو ڈبل سواری کی پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا، عوامی مقامات پر نقاب یا چہرہ ڈھانپنے، مفلر، ماسک وغیرہ کے استعمال پر بھی پابندی ہوگی۔
عمان میں دو روزہ سرکاری تعطیلات کا اعلان
غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکل، سیاہ شیشے اور ہتھیاروں کے استعمال و نمائش پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، 5 یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، دھرنوں اور ریلیوں پر بھی پابندی ہوگی، دھماکا خیز مواد اور سلفیورک ایسڈ کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی ہوگی، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت کی جائے گی۔
پولیس، لیویز اور ایف سی کو حکم نامے پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت جاری کی گئی ہے، ڈپٹی کمشنرز کو روزانہ عملدرآمد رپورٹ محکمہ داخلہ کو ارسال کرنے کا کہنا گیا ہے، پابندیاں 5 نومبر کے نوٹیفکیشن میں ترمیم کرکے لگائی گئیں جو کہ 30 نومبر 2025ء تک نافذالعمل رہیں گی۔
سلواکیہ: 2 ٹرینوں میں تصادم
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پابندی ہوگی موٹر سائیکل ڈبل سواری
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔