پاکستان ذیابیطس کے ساڑھے تین کروڑ مریضوں کیساتھ دنیا بھر میں پہلے نمبر پر پہنچ چکا
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
---فائل فوٹو
پاکستان ذیابیطس کے ساڑھے تین کروڑ مریضوں کے ساتھ دنیا بھر میں پہلے نمبر پر پہنچ چکا ہے۔
ذیابیطس سے بچاؤ اور علاج کے سلسلے میں آگاہی دینے کے لیے فیصل آباد میں تیسری ذیابیطس کانفرنس کا انقاد کیا گیا۔
فیصل آباد میں پاکستان سوسائٹی آف میڈیسن کے زیرِ اہتمام ہونے والی کانفرنس کے موقع پر طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تیزی سے بڑھتی تعداد انتہائی تشویشناک ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان تقریباً دنیا میں آبادی کے حساب سے اس وقت پہلے نمبر پر آ چکا ہے، اس سلسلے میں ہمیں آگاہی فراہم کرنی ہے اور اپنے عوام اور ڈاکٹرز کو ایجوکیٹ کرنا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ پنیر متوازن غذا کا ایک صحت مند حصہ ہو سکتا ہے، تاہم انھوں نے خبر دار کیا ہے کہ بعض اقسام کی پنیر ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔
کانفرنس سے خطاب کے دوران ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ اسپتالوں کا رُخ کرنے والے 50 فیصد مرِیضوں میں ذیابیطس کا مرض سامنے آ رہا ہے۔ اس وقت اگر ہم اپنے اسپتالوں میں دیکھیں چاہے وہ پرائیویٹ ہیں یا گورنمنٹ 50 فیصد افراد شوگر یا اس کی پیچیدگیوں کی وجہ سے اسپتال آتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں غیر میعاری غذاؤں سے نوجوانوں اور بچوں میں بھی ذیابیطس کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ذیابیطس کا
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔