استعمال شدہ اور سیکنڈ ہینڈ آٹو پارٹس کی غیر قانونی کلیئرنس کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا کنوینر شاہدہ اختر علی کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں استعمال شدہ اور سیکنڈ ہینڈ آٹو پارٹس کی غیر قانونی کلیئرنس کا انکشاف ہوا۔
اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے متعلق سال 2010-11 اور 2013-14 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔
کنوینر کمیٹی نے کہا کہ ہردوسرا کیس کورٹ کیس ہے، جتنے بھی آڈٹ پیراز ہیں سارے کورٹ کیسز ہیں، عدالت میں زیر التوا معاملات ہم سیٹل نہیں کرسکتے۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ وکیلوں کی فیس اب بڑھ گئی ہے، وکیل کو تیس لاکھ تک بھی دیا ہے۔
کنوینر کمیٹی نے کہا کہ ریفارمز کی طرف جانا چاہئے، زیادہ تر آڈٹ پیراز آپ لوگوں کے ہیں،
اسلام آباد: ریفارمز کی کوشش جاری رکھیں۔
ایف بی آر کی جانب سے درآمدی پالیسی آرڈر 2009 کی خلاف ورزی کا آڈٹ اعتراض کیا گیا، استعمال شدہ اور سیکنڈ ہینڈ آٹو پارٹس کی غیر قانونی کلیئرنس کا انکشاف ہوا۔
آڈٹ میں کہا گیا کہ درآمدی پالیسی آرڈر 2009 کے تحت استعمال شدہ آٹو پارٹس کی درآمد پر پابندی تھی، اسلام آباد اور ملتان کسٹمز نے سیکنڈ ہینڈ آٹو پارٹس کی کلیئرنس ریڈمپشن فائن کے ذریعے کی۔
آڈٹ حکام نے بریفنگ دی کہ آٹو پارٹس کی یہ کلیئرنس درآمدی پالیسی کی خلاف ورزی تھی، ڈی اے سی نے وزارتِ تجارت سے وضاحت طلب کرنے کی ہدایت دی، وزارتِ تجارت کی پالیسی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔
بلال احمد خان نے کہا کہ کیا آڈٹ نے اس حوالے سے وزارت قانون کو یہ وضاحت لکھی تھی،
آڈٹ حکام نے بریفنگ میں کہا کہ آڈٹ کا کام وضاحت دینا نہیں چیزوں کی نشاندہی کرنا ہوتی ہے،
ہماری نظر میں دونوں آٹو پارٹس کی کلیئرنس میں تضاد ہے۔
پی اے سی ذیلی کمیٹی نے ایف بی آر سے چار ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ مانگ لی۔
پرال میں غیر مجاز پی سی ٹی ہیڈنگز اور کسٹم ڈیوٹی ریٹس شامل کرنے سے 2 کروڑ 13 لاکھ روپے کا نقصان ہوا، آڈٹ کے مطابق پاک چین کے 2006 کے معاہدے کے تحت 5,909 چینی اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی میں رعایت دی گئی، ایم سی سی اسلام آباد نے درآمدی سامان کو غلط پی سی ٹی ہیڈنگز میں درج کیا۔
آڈٹ حکام نے بریفنگ دی کہ کسٹم اور پرال حکام نے غلط اندراج پر کوئی کارروائی نہیں کی،
کم کسٹم ڈیوٹی ریٹس کے اطلاق سے قومی خزانے کو 2 کروڑ 13 لاکھ روپے کا نقصان ہوا،
کسٹم حکام اور پرال حکام دونوں غلط اندراج کے ذمہ دار ہیں۔
ممبر پی اے سی بلال احمد نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پرال میں غلط اندراج کیا جائے،
اس سے تو ایسا لگ رہا ہے کہ آپ کے لوگ بھی ملے ہوئے تھے، ایف بی آر حکام نے کہا کہ
پرال سے آدھے لوگوں کو فارغ کر دیا گیا ہے، اس کو مکمل ریویمپ کیا جا رہا ہے، پرال کا الگ سے بورڈ بنایا ہے اور اس کو مکمل ایک آزاد باڈی بنا رہے ہیں، پرال کو ایف بی آر کے انفلوئنس سے بھی نکال رہے ہیں۔
ممبر ایف بی آر سید شکیل نے کہا کہ پرال میں جن لوگوں کی غفلت پائی گئی وہ گرفتار بھی ہوئے ہیں، یہ رقم تو بہت چھوٹی ہے لیکن غلطی بہت بڑی ہے۔
ممبر ایف بی آر نے کہا کہ چین کے ساتھ 17 ارب کی تجارت ہوتی ہے اس بڑے حجم کو بھی دیکھا جائے،
پی اے سی ذیلی کمیٹی نے 4 ہفتوں میں ایف بی آر سے رپورٹ طلب کر لی
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: استعمال شدہ نے کہا کہ ایف بی آر کمیٹی نے حکام نے
پڑھیں:
موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو سمز کے محفوظ استعمال کے حوالے سے اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اپنی رجسٹرڈ سم کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنا قابلِ سزا جرم ہے اور اس کے سنگین قانونی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کے نام پر رجسٹرڈ سم غیرقانونی سرگرمیوں میں استعمال ہوتی ہے تو متعلقہ صارف کو بھی قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے شہری اپنی سم کسی دوسرے فرد کے استعمال کے لیے ہرگز نہ دیں۔
اتھارٹی نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر یہ تصدیق کریں کہ ان کے قومی شناختی کارڈ پر کتنی سمیں رجسٹرڈ ہیں۔ اس مقصد کے لیے cnic.sims.pk پر جا کر یا اپنا 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر (بغیر ڈیش کے) 668 پر ایس ایم ایس کر کے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
اگر کسی نامعلوم یا غیر ضروری سم کی نشاندہی ہو تو اسے فوری طور پر بلاک کرایا جائے۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے