خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت کے علاقے درہ تنگ میں میانوالی روڈ پر نامعلوم مسلح افراد نے ایک ٹرک سے نصف درجن سے زائد موٹر سائیکلیں لوٹ لیں اور پولیس سے مقابلہ کیے بغیر پہاڑی علاقے کی جانب فرار ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: لکی مروت میں خفیہ اطلاع پر کامیاب آپریشن، 8 خوارج مارے گئے

پولیس ذرائع نے وی نیوز کو واقعے کی تصاویر فراہم کی اور بتایا کہ  واردات 3 نومبر 2025 کو صبح 10 بجے اس وقت ہوئی جب ایک ٹرک فنی خرابی کے باعث سڑک کنارے کھڑا تھا۔

ذرائع نے واقعے کی مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا 3 نومبر کی شام تقریباً 7 بجے مسلح افراد نے کارروائی کی جبکہ رات 8 بجے کے قریب پولیس نے علاقے کا محاصرہ کیا اور باقی موٹر سائیکلیں چوری ہونے سے بچالیں۔ تب تک مسلح افراد موٹر سائیکلیں ٹرک سے اتار چکے تھے۔ تاہم اس دوران ملزمان پولیس کو دیکھ کر جبار خیل کے پہاڑی علاقے کی جانب نکل پڑے’

پولیس ذرائع وی نیوز کو بتایا کہ موٹر سائیکلیں لے جانے والا ٹرک فنی خرابی کے باعث سڑک کنارے کھڑا تھا۔ اسی دوران نامعلوم حملہ آوروں نے اسلحے کے زور پر ٹرک سے تقریباً 8 ہنڈا 125 موٹر سائیکلیں اتاریں اور لے کر فرار ہوگئے۔

یہ موٹر سائیکلیں بنوں پہنچائی جا رہی تھیں۔ ذرائع نے اس حوالے سے مزید بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد 7 سے 8 کے درمیان تھی جنہوں نے ٹرک کو سڑک کنارے کھڑے دیکھ کر موقع غنیمت جانا اور چوری کی واردات کی۔

چوروں کی قیادت کس نے کی؟

 دیگر ذرائع نے وی نیوز کو بتایا کہ اس واردات میں لٹیروں کی قیادت مبینہ طور پر کمانڈر منہاج الدین ساکن لُنڈ احمد خیل نے کی۔ واقعے کے بعد حملہ آور پولیس سے مقابلہ کیے بغیر جبار خیل کے پہاڑی علاقے کی طرف فرار ہوگئے۔ عام طور پر ایسے مسلح افراد پولیس کو دیکھ کر مقابلہ ضرور کرتے ہیں تاہم اس بار بغیر مقابلہ کیے مسلح افراد فرار ہوگئے۔

مزید پڑھیے: لکی مروت میں مارٹر گولہ پھٹنے سے 5 بچے جاں بحق

ذرائع کے مطابق ملزمان نے پولیس سے کسی قسم کی فائرنگ یا مزاحمت نہیں کی۔ واقعے کے بعد پولیس نے نامعلوم حملہ آوروں کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔

پولیس مستعد ہے، ترجمان پولیس

لکی مروت پولیس ترجمان کے مطابق ڈی پی او لکی مروت نذیر خان کا کہنا ہے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

ان کے بقول لکی مروت پولیس ہر وقت چوکس، مستعد اور جرائم کے خاتمے کے لیے سرگرم عمل ہے اور ایس ایچ او تھانہ پیزو قدرت اللہ خان کی زیر نگرانی علاقے میں رات کے وقت مؤثر ناکہ بندیاں کی گئی ہیں۔ پولیس کی خصوصی ٹیمیں مشکوک افراد، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی باریک بینی سے چیکنگ کر رہی ہیں جبکہ علاقے میں جرائم پیشہ عناصر کی نقل و حرکت پر سخت نگرانی جاری ہے۔

یہ پہلی واردات نہیں

یاد رہے کہ اس علاقے میں یہ پہلی واردات نہیں ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر 2024 میں بھی درہ تنگ کے قریب ڈاکوؤں نے اسلام آباد سے بنوں جانے والی مسافر کوچ پر فائرنگ کر کے متعدد مسافروں کو زخمی کر دیا تھا۔

مزید پڑھیں: لکی مروت میں جہاد کے نعرے، اسلحہ اٹھائے لوگ سڑکوں پر کیوں؟

درہ تنگ روڈ طویل عرصے سے اسمگلروں اور جرائم پیشہ عناصر کی آمد و رفت کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے جہاں پہاڑی راستے فرار میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

درہ تنگ لکی مروت موٹر سائیکلیں چوری میانوالی روڈ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: لکی مروت موٹر سائیکلیں چوری میانوالی روڈ موٹر سائیکلیں مسلح افراد فرار ہوگئے بتایا کہ لکی مروت کے لیے

پڑھیں:

ٹانک: پولیس چیک پوسٹ پر خوارج کا بزدلانہ حملہ، 15 بہادر جوان شہید، جوابی کارروائی میں 12 دہشتگرد ہلاک

 سٹی 42 :ضلع ناٹک میں مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کا بزدلانہ دہشت گرد حملہ ؛ 12 خوارج  جہنم واصل  ہوئے ۔ بارودی گاڑی  چیک پوسٹ کی دیوار سے ٹکرانے سے 15 بہادر سپوت شہید ہوئے ۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق 23 اور 24 جولائی 2026 کی درمیانی شب ضلع ٹانک میں مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر بھارتی سرپرستی میں چلنے والی فتنہ الخوارج کے خوارج نے بزدلانہ دہشت گرد حملہ کیا۔حملہ آوروں نے چیک پوسٹ کی سکیورٹی توڑنے کی کوشش کی، تاہم سکیورٹی فورسز کے بروقت، مستعد اور فیصلہ کن ردعمل نے ان کے ناپاک عزائم ناکام بنا دیے، جوانوں نے غیر متزلزل جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرار ہونے والے 12 خوارج کو نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا۔

آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے

مایوسی کے عالم میں دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ کی حفاظتی دیوار سے ٹکرا دی، دھماکے کے شدید اثرات سے چیک پوسٹ کا انفراسٹرکچر بری طرح متاثر ہوا،حملے میں 15 بہادر سپوتوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جن میں 12 فوجی، 2 پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سرکاری اہلکار شامل ہے ۔

 آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود کسی بھی بھارتی سرپرستی میں چلنے والے خارجی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے،نیشنل ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن "عزمِ استحکام" کے تحت سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز مہم پوری شدت سے جاری رہے گی۔پاکستان سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

آج شام و رات سے 27 جولائی تک مزید بارشوں کی پیشگوئی

ہمارے بہادر جوانوں کی یہ عظیم قربانیاں ہر قیمت پر وطن کے دفاع کے غیر متزلزل عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اداکار منیب بٹ اغوا برائے تاوان کیس کا ڈراپ سین
  • ٹانک: پولیس چیک پوسٹ پر خوارج کا بزدلانہ حملہ، 15 بہادر جوان شہید، جوابی کارروائی میں 12 دہشتگرد ہلاک
  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک
  • طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا