’تیری خاطر بیوی کو قتل کر دیا‘، سرجن کا ڈیجیٹل پے منٹ ایپلیکیشن کے ذریعے محبوبہ کے نام پیغام
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
ایک بھارتی سرجن نے شادی کے ڈیڑھ سال بعد اپنی بیوی کو محبوبہ کی خاطر اینستھیٹک دوا زیادہ مقدار میں دے کر قتل کردیا۔ بعدازاں ڈیجیٹل پے منٹ ایپلیکیشن کے ذریعے محبوبہ کو بیوی کو ہلاک کرنے کی خبر بھی بھیج دی۔
ایک چونکا دینے والے انکشاف میں، ڈاکٹر مہندر ریڈی نامی سرجن، جو اپنی ڈرمٹولوجسٹ اہلیہ ڈاکٹر کرُتیکا ریڈی کے قتل کے الزام میں گرفتار ہیں، نے جرم کے فوراً بعد اپنی مبینہ محبوبہ کو ایک پیغام بھیجا جس میں لکھا تھا ’میں نے تمہارے لیے اپنی بیوی کو مار دیا۔‘
یہ بھی پڑھیے محبوب نے شادی کے اصرار پر خاتون کو قتل کر کے دفنا دیا
تحقیقاتی حکام کے مطابق، یہ پیغام ایک ڈیجیٹل پیمنٹ ایپلیکیشن کے ذریعے بھیجا گیا تھا۔ پولیس نے یہ پیغام ملزم کے موبائل فون کی فارنزک جانچ کے دوران دریافت کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ خاتون سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے اور ان کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے، تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
قتل کا پس منظرواقعہ 21 اپریل کو پیش آیا، جب ڈاکٹر مہندر ریڈی نے مبینہ طور پر اپنی اہلیہ کو اینستھیٹک (بیہوشی دینے والی) دوا کی زیادہ مقدار دے کر قتل کیا۔
انہوں نے بیوی کی طبیعت خراب ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے اسے قریبی اسپتال پہنچایا، جہاں ڈاکٹر کرتیکا ریڈی کو مردہ قرار دے دیا گیا۔
بعد ازاں فارنزک سائنس لیبارٹری (FSL) کی رپورٹ میں مقتولہ کے جسم میں پروپوفول (Propofol) نامی طاقتور دوا کے آثار پائے گئے، جو کہ ایک ممنوعہ انجکشن دوا ہے اور صرف ماہر ڈاکٹروں کے زیرِ استعمال آتی ہے۔
گھر کی تلاشی کے دوران پولیس نے کینولا سیٹ، انجکشن ٹیوب اور دیگر طبی سامان برآمد کیا، جس نے شبہ کو مزید مضبوط کیا۔
گرفتاری اور مقدمہمقتولہ کے والد نے رپورٹ کی بنیاد پر داماد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرایا۔ اس کے بعد 15 اکتوبر کو ڈاکٹر مہندر ریڈی کو 6 ماہ بعد گرفتار کیا گیا۔
بنگلورو پولیس کمشنر سیمانتھ کمار سنگھ نے بتایا ’اب تک جمع ہونے والے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ شوہر ہی قتل میں ملوث ہے۔ وہ خود بیوی کو اسپتال لایا اور یہ ظاہر کیا کہ وہ پہلے سے بیمار تھی۔ لیکن فارنزک رپورٹ سے واضح ہوا کہ اسے غیر قانونی طور پر دوا کا انجکشن دیا گیا، جو بدنیتی پر مبنی عمل کی نشاندہی کرتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں: محبت، بلیک میلنگ اور قتل، خوفناک واردات کی تفصیل سامنے آگئی
پولیس کو شبہ ہے کہ ملزم نے اپنی طبی مہارت کو استعمال کرتے ہوئے قتل کو فطری موت کا رنگ دینے کی کوشش کی۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر مہندر ریڈی اور ڈاکٹر کرتیکا ریڈی کی شادی 26 مئی 2024 کو ہوئی تھی۔ دونوں وِکٹوریہ اسپتال بنگلورو میں ملازم تھے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، تفتیش جاری ہے اور ڈیجیٹل شواہد کے علاوہ دوا کی خریداری اور مالی لین دین کے ریکارڈ کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلورو بھارت بیوی کا قتل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلورو بھارت بیوی کا قتل ڈاکٹر مہندر ریڈی بیوی کو
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ