میر واعظ عمر فاروق ایک بار پھر دنیا کی 500 بااثر ترین مسلم شخصیات کی فہرست میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
اپنی پوری زندگی میں میر واعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے ہمیشہ امن، انصاف اور عوامی حقوق کی وکالت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اردن کے دارالحکومت عمان میں قائم رائل اسلامک اسٹریٹیجک اسٹڈیز سنٹر نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق کو ایک بار پھر دنیا کی 500 بااثر ترین مسلم شخصیات کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق رائل اسلامک اسٹریٹجک اسٹڈیز سینٹرنے رواں سال کیلئے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ میر واعظ عمر فاروق،نے جو مقبوضہ کشمیر کے 14ویں میر واعظ ہیں، اپنے والد کی شہادت کے بعد 1990ء میں صرف 17برس کی عمر میں ان کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ بیس سال کی عمر میں انہوں نے کل جماعتی حریت کانفرنس کی بنیاد رکھی اور اس کے چیئرمین بنے۔ اپنی پوری زندگی میں میر واعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے ہمیشہ امن، انصاف اور عوامی حقوق کی وکالت کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے تمام فریقوں کے درمیان مکالمے اور مفاہمت کے فروغ کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ اگست 2019ء سے چار سال سے زائد عرصے تک نظربندی کے باوجود، میرواعظ عمر فاروق کشمیر کی ایک کلیدی آواز ہیں جو مذہبی قیادت کو انسانی حقوق اور علاقائی سفارتکاری سے جوڑتے ہیں۔میر واعظ عمر فاروق کا ایک بار پھر اس عالمی فہرست میں شامل ہونا اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ روحانی، سماجی اور سیاسی سطح پر مسلسل اثرورسوخ رکھتے ہیں اور امن و مکالمے کے فروغ کے لیے ان کی ثابت قدمی کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ امسال کے ”شخصیاتِ سال” کے طور پر غزہ کے مرد و خواتین کو ان کی غیر معمولی جرات، استقامت اور مصائب کے باوجود ثابت قدمی پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے جس نے دنیا بھر کے لوگوں کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میر واعظ عمر فاروق
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔