پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ جگر کی 1000 پیوندکاریاں کر کے دنیا کے صف اول کے اسپتالوں میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ (پی کے ایل آئی) نے جگر کے 1000 کامیاب ٹرانسپلانٹس مکمل کر کے خود کو دنیا کے بڑے ٹرانسپلانٹ مراکز کی صف میں شامل کر لیا ہے، یہ کامیابی پاکستان کے شعبہ صحت کیلیے اہم سنگ میل ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق 2017 میں موجودہ وزیراعظم اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے اس ادارے کا خواب دیکھا اور سنگ بنیاد رکھا، جہاں عوام کو جگر اور گردے کے امراض کا عالمی معیاری علاج فراہم کیا جاتا ہے۔
شہباز شریف کا 9 سال قبل دیکھا گیا خواب آج حقیقت بن گیا جہاں ہزاروں مریضوں کا اعلیٰ معیاری علاج کر کے زندگیاں بچائی جا چکی ہیں۔
ترجمان پی کے ایل آئی کے مطابق اب تک جگر کے 1000 ٹرانسپلانٹس کے ساتھ ساتھ 1100 گردے اور 14 بون میرو ٹرانسپلانٹس مکمل کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 40 لاکھ سے زائد مریض علاج کی سہولیات سے مستفید ہو چکے ہیں جبکہ اس وقت تقریباً 80 فیصد مریضوں کو عالمی معیار کے مطابق بالکل مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
’استطاعت رکھنے والے مریضوں کے لیے علاج کے اخراجات تقریباً 60 لاکھ روپے ہیں، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔‘
ترجمان نے بتایا کہ بدقسمتی سے پی کے ایل آئی کو تحریک انصاف کی سابق حکومت کے دور میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور فنڈز منجمد کیے گئے جبکہ انتظامیہ کو غیر ضروری تحقیقات میں الجھایا گیا اور عالمی معیار کے ٹرانسپلانٹ سینٹر کو کووڈ اسپتال میں تبدیل کر دیا گیا، جس کے باعث 2019 میں صرف چار جگر کے ٹرانسپلانٹ ممکن ہو سکے۔
تاہم، 2022 میں وزیراعظم شہباز شریف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ادارے کو بحال کیا گیا، فنڈز فراہم کیے گئے اور پی کے ایل آئی کو اپنے اصل مقصد کی جانب دوبارہ گامزن کیا گیا۔
اس کے نتیجے میں 2022 میں 211، 2023 میں 213، 2024 میں 259 اور 2025 میں اب تک 200 سے زائد کامیاب جگر کے ٹرانسپلانٹس مکمل کیے جا چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بیرونِ ملک جگر کے ٹرانسپلانٹ پر اوسطاً 70 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ امریکی ڈالر خرچ آتا ہے، جب کہ ماضی میں سالانہ 500 کے قریب پاکستانی مریض علاج کے لیے بھارت جاتے تھے اور نہ صرف بھاری اخراجات برداشت کرتے بلکہ غیر انسانی رویوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔
پی کے ایل آئی نے ان تمام مشکلات کا خاتمہ کر دیا ہے، علاج کے دروازے ملک کے اندر کھول دیے ہیں اور اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بچایا ہے۔ ادارہ اب صرف ٹرانسپلانٹ تک محدود نہیں بلکہ یورالوجی، گیسٹروانٹرولوجی، نیفرو لوجی، انٹروینشنل ریڈیالوجی، ایڈوانس اینڈوسکوپی اور روبوٹک سرجریز کے شعبے بھی عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں۔
ترجمان نے کہا ہک وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی سرپرستی اور مسلسل تعاون سے پی کے ایل آئی تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور یہ ادارہ اب محض ایک اسپتال نہیں بلکہ قومی وقار، خود انحصاری اور انسانیت کی خدمت کی علامت بن چکا ہے۔
وزیراعظم کا سنگ میل عبور کرنے پر اظہار تشکر
وزیراعظم شہباز شریف نے اظہار تشکر کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے جو پودا 2017 میں لگایا تھا وہ آج تناور درخت بن گیا جس سے اب تک 40 لاکھ مریض مستفید ہو چکے، ماضی میں پی کے ایل آئی کو تباہ کرنے کی مزموم سازشیں ہوتی رہیں، اسکے بورڈ آف گورنرز کو ختم کیا گیا اور ادارے کو غیر فعال کردیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ 2022 میں خادم پاکستان کی ذمہ داری سنبھالی تو پی کے ایل آئی کی ازسر نو بحالی پر کام شروع کیا، وزیرِ اعلی پنجاب مریم نواز نے موجودہ دور حکومت میں انسانیت کی خدمت کیلئے قائم اس ادارے کو اپنی بھرپور استعداد پر دوبارہ لانے کیلئے بھرپور محنت کی، جو قابل ستائش ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پی کے ایل آئی 80 فیصد مریضوں کا علاج مفت کرتا ہے جس سے غریب عوام بین الاقوامی معیار کی سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں، پی کے ایل آئی کے قیام اور اس کے آپریشنز کو ازسر نو شروع کرکے دوبارہ سے اپنی بھرپور استعداد پر لانے کیلئے محنت کرنے والی ٹیم لائق تحسین ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت اور زندگیاں بچانے میں پی کے ایل آئی نے جو کردار ادا کیا یے، اس کے لئے ڈاکٹر سعید اختر اور انکی پوری ٹیم خراج تحسین کی مستحق ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے ٹرانسپلانٹ پی کے ایل آئی شہباز شریف کے مطابق جگر کے
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند