وفاقی سرکاری ملازمین کیلئے کرایہ داری سیلنگ میں 85 فیصد اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے بڑا ریلیف فراہم کرتے ہوئے کرایہ داری سیلنگ میں 85 فیصد اضافہ کر دیا، وزارتِ ہاؤسنگ و ورکس نے اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جو یکم نومبر 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔
ڈان نیوز کے مطابق ترجمان وزارت ہاؤسنگ کے مطابق نئی کرایہ داری سیلنگ کی شرحیں فنانس ڈویژن کی مشاورت سے طے کی گئی ہیں، اور اس کا اطلاق وفاقی حکومت کے تمام ملازمین بی ایس-1 تا 22 پر ہو گا۔
ترجمان وزارت ہاؤسنگ کا کہنا ہے کہ اضافے کا اطلاق فی الحال 6 بڑے اسٹیشنز پر کیا گیا ہے، وزارت کے مطابق بڑے شہروں میں بڑھتے ہوئے کرایوں کے پیشِ نظر یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کے لیے قابلِ قدر ریلیف ثابت ہوگا۔
وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ و ورکس میاں ریاض حسین پیرزادہ نے فیصلے کو ملازمین کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزارت ہاؤسنگ ملازمین کی سہولت اور فلاح کے لیے پُرعزم ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں اس وقت17 ہزار 400 سرکاری رہائشی مکانات موجود ہیں جبکہ 43 ہزار سے زائد رجسٹرڈ درخواست گزار سرکاری رہائش کے منتظر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق ہاو سنگ کے لیے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔