پاکستان ریلوے نے سردیوں کے ٹائم ٹیبل پر عملدرآمد عارضی طور پر روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
( سعید احمد)انجینئرنگ پابندیوں اور سگنل مسائل کے باعث ٹرینوں کی آمد و روانگی میں تاخیرہونے لگی اور ریلوے انتظامیہ نے موجودہ سردیوں کے ٹائم ٹیبل پر عملدرآمد عارضی طور پر روک دیا۔
تاریخ میں پہلی بار موسم سرما میں موسم گرما کے اوقات کار میں ٹرین آپریشن چلایا جائے گا۔
سابقہ ٹائم ٹیبل (15 اپریل 2025 تا 14 اکتوبر 2025) آج 10 نومبر 2025 سے دوبارہ نافذ کر دیا گیاہے۔
ذرائع کے مطابق پہلے سے ہی گھنٹوں تاخیر کی شکار ٹرینوں کو موسم گرما کے اوقات کار میں آپریٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیاہے ،ٹریک پر انجینئرنگ پابندیوں کے باعث لاہور کراچی ٹرین سفر 4گھنٹے سے تجاوز کر چکا ہے اورلاہور سے کراچی ٹرین تقریباً 24 گھنٹے میں سفر طے کر رہی ہے۔
مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی منظوری کے بعد مجوزہ آئینی ترمیم کا مسودہ آج سینیٹ میں پیش ہوگا
پاکستان ریلوے ترجمان کے مطابق یہ اقدام وقتی نوعیت کا ہے،جیسے ہی انجینئرنگ و سگنلنگ کی صورتحال میں بہتری آئے گی، ٹرینوں کی آمدورفت حسبِ معمول بحال کر دی جائے گی،مسافر روانگی سے قبل اپنی ٹرینوں کے تازہ ترین اوقات کی تصدیق ضرور کر لیں تاکہ کسی زحمت سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔