میٹا سے متعلق بڑا انکشاف: جعلی اشتہارات سے سالانہ 16 ارب ڈالر کی حیران کن کمائی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا کی سب سے بڑی سوشل میڈیا کمپنی ‘میٹا’ (Meta) کی مالیاتی پالیسیوں سے متعلق ایک تہلکہ خیز انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق کمپنی فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر ملکیتی پلیٹ فارمز پر دھوکا دہی پر مبنی اور ممنوع اشیا کے اشتہارات چلا کر سالانہ اربوں ڈالر کی آمدنی حاصل کر رہی ہے۔
یہ انکشافات نئے داخلی دستاویزات کے ذریعے سامنے آئے ہیں، جو ٹیکنالوجی کے بڑے ادارے کی ایڈورٹائزنگ کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اختتام پر کمپنی کی جانب سے ایک داخلی جائزہ لیا گیا تھا۔ اس تخمینے سے پتا چلا کہ میٹا اپنی سالانہ مجموعی آمدنی کا تقریباً 10 فیصد، جو تقریباً 16 ارب ڈالر بنتا ہے۔
جعلی ای-کامرس اسکیموں، غیر قانونی آن لائن کیسینو، مشکوک سرمایہ کاری کے منصوبوں اور ممنوعہ طبی مصنوعات کی فروخت سے جڑے اشتہارات کے ذریعے کماتی ہے۔ یہ خطیر رقم واضح کرتی ہے کہ صارفین کے تحفظ کو نظر انداز کر کے کمپنی اپنے ریونیو میں غیر معمولی اضافہ کر رہی ہے۔
ماضی میں غیر علانیہ ان دستاویزات سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ سوشل میڈیا کی یہ بڑی کمپنی گزشتہ تین سالوں سے اپنے پلیٹ فارمز کو محفوظ بنانے میں بُری طرح ناکام رہی ہے۔
میٹا، جس کے تحت فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ جیسے بڑے پلیٹ فارمز آتے ہیں، اربوں صارفین کو ان خطرناک اور جعلسازی پر مبنی اشتہارات سے بچانے کے لیے کوئی مؤثر طریقہ کار وضع نہیں کر سکی۔ کمپنی نہ صرف دھوکا دہی کے اشتہارات کی مؤثر طریقے سے شناخت کرنے میں ناکام رہی، بلکہ اس نے ان کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بھی کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔
دسمبر 2024 کے ایک اور داخلی دستاویز نے ان سیکورٹی خدشات کو مزید تقویت بخشی ہے۔ اس کے مطابق میٹا اپنے صارفین کو روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 15 ارب ایسے اشتہارات دکھاتی ہے جن میں جعلسازی اور فراڈ کے واضح اشارے موجود ہوتے ہیں۔
ان اشتہارات کو انتہائی خطرناک جعلسازی کے زمرے میں رکھا گیا ہے، جو صارفین کے مالی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایک اور دستاویز میں یہ انکشاف ہوا کہ میٹا صرف جعلسازی کی اس مخصوص کیٹگری سے سالانہ تقریباً سات ارب ڈالر کی کمائی کر رہی ہے۔
یہ اعداد و شمار کمپنی کے اشتہارات کی جانچ پڑتال کے نظام کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ صارفین کو تحفظ فراہم کرنے سے زیادہ کمپنی کی ترجیح اپنی آمدنی کو بڑھانا ہے۔
اس صورتحال نے میٹا کی ایڈورٹائزنگ پالیسیوں اور اخلاقیات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رہی ہے
پڑھیں:
افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ
کراچی (سٹاف رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے نے مقدمے میں گرفتار چار ملزم انعام الحق، فیاض احمد سانگی، جنید اور محمد عمر کو عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات بنانے کی غرض سے سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کرتے تھے۔ عدالت نے ملزموںکو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔