data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دنیا کی سب سے بڑی سوشل میڈیا کمپنی ‘میٹا’ (Meta) کی مالیاتی پالیسیوں سے متعلق ایک تہلکہ خیز انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق کمپنی فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر ملکیتی پلیٹ فارمز پر دھوکا دہی پر مبنی اور ممنوع اشیا کے اشتہارات چلا کر سالانہ اربوں ڈالر کی آمدنی حاصل کر رہی ہے۔

یہ انکشافات نئے داخلی دستاویزات کے ذریعے سامنے آئے ہیں، جو ٹیکنالوجی کے بڑے ادارے کی ایڈورٹائزنگ کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اختتام پر کمپنی کی جانب سے ایک داخلی جائزہ لیا گیا تھا۔ اس تخمینے سے پتا چلا کہ میٹا اپنی سالانہ مجموعی آمدنی کا تقریباً 10 فیصد، جو تقریباً 16 ارب ڈالر بنتا ہے۔

جعلی ای-کامرس اسکیموں، غیر قانونی آن لائن کیسینو، مشکوک سرمایہ کاری کے منصوبوں اور ممنوعہ طبی مصنوعات کی فروخت سے جڑے اشتہارات کے ذریعے کماتی ہے۔ یہ خطیر رقم واضح کرتی ہے کہ صارفین کے تحفظ کو نظر انداز کر کے کمپنی اپنے ریونیو میں غیر معمولی اضافہ کر رہی ہے۔

ماضی میں غیر علانیہ ان دستاویزات سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ سوشل میڈیا کی یہ بڑی کمپنی گزشتہ تین سالوں سے اپنے پلیٹ فارمز کو محفوظ بنانے میں بُری طرح ناکام رہی ہے۔

میٹا، جس کے تحت فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ جیسے بڑے پلیٹ فارمز آتے ہیں، اربوں صارفین کو ان خطرناک اور جعلسازی پر مبنی اشتہارات سے بچانے کے لیے کوئی مؤثر طریقہ کار وضع نہیں کر سکی۔ کمپنی نہ صرف دھوکا دہی کے اشتہارات کی مؤثر طریقے سے شناخت کرنے میں ناکام رہی، بلکہ اس نے ان کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بھی کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔

دسمبر 2024 کے ایک اور داخلی دستاویز نے ان سیکورٹی خدشات کو مزید تقویت بخشی ہے۔ اس کے مطابق میٹا اپنے صارفین کو روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 15 ارب ایسے اشتہارات دکھاتی ہے جن میں جعلسازی اور فراڈ کے واضح اشارے موجود ہوتے ہیں۔

ان اشتہارات کو انتہائی خطرناک جعلسازی  کے زمرے میں رکھا گیا ہے، جو صارفین کے مالی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایک اور دستاویز میں یہ انکشاف ہوا کہ میٹا صرف جعلسازی  کی اس مخصوص کیٹگری سے سالانہ تقریباً سات ارب ڈالر کی کمائی کر رہی ہے۔

یہ اعداد و شمار کمپنی کے اشتہارات کی جانچ پڑتال کے نظام کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ صارفین کو تحفظ فراہم کرنے سے زیادہ کمپنی کی ترجیح اپنی آمدنی کو بڑھانا ہے۔

اس صورتحال نے میٹا کی ایڈورٹائزنگ پالیسیوں اور اخلاقیات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رہی ہے

پڑھیں:

جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) ملتان زون نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام بنادی۔

ایف آئی اے ملتان زون کے مطابق 2 خواتین کو آف لوڈ کرکے 2 ایجنٹوں کو گرفتار کرلیا۔ مسافروں نے جعلی نکاح نامے پر سوازی لینڈ کے وزٹ ویزے حاصل کیے تھے۔ 

ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ایجنٹ نے مسافروں کی غیرقانونی امیگریشن کیلیے رشوت دینے کی کوشش بھی کی۔ 

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی