جامعۃ العروۃ الوثقى لاہور میں قومی اُردو کانفرنس کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
یوم اقبالؒ کے موقع پر قومی اردو کانفرنس سے خطاب میں سربراہ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ اگر زبان کمزور ہو جائے تو قوم کی فکری بنیادیں بھی کمزور پڑ جاتی ہیں، اردو زبان ہماری قومی پہچان کا مظہر اور فکری وحدت کی بنیاد ہے۔ اس کا تحفظ، فروغ اور نفاذ قومی فریضہ ہے۔ قومی ترقی اور فکری استحکام کے لیے اردو زبان کو سرکاری، دفتری اور تعلیمی سطح پر مکمل طور پر رائج کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
جامعۃ العروۃ الوثقى لاہور میں قومی اُردو کانفرنس کا انعقاد
جامعۃ العروۃ الوثقى لاہور میں قومی اُردو کانفرنس کا انعقاد
جامعۃ العروۃ الوثقى لاہور میں قومی اُردو کانفرنس کا انعقاد
جامعۃ العروۃ الوثقى لاہور میں قومی اُردو کانفرنس کا انعقاد
جامعۃ العروۃ الوثقى لاہور میں قومی اُردو کانفرنس کا انعقاد
جامعۃ العروۃ الوثقى لاہور میں قومی اُردو کانفرنس کا انعقاد
جامعۃ العروۃ الوثقى لاہور میں قومی اُردو کانفرنس کا انعقاد
جامعۃ العروۃ الوثقى لاہور میں قومی اُردو کانفرنس کا انعقاد
جامعۃ العروۃ الوثقى لاہور میں قومی اُردو کانفرنس کا انعقاد
جامعۃ العروۃ الوثقى لاہور میں قومی اُردو کانفرنس کا انعقاد
جامعۃ العروۃ الوثقى لاہور میں قومی اُردو کانفرنس کا انعقاد
جامعۃ العروۃ الوثقى لاہور میں قومی اُردو کانفرنس کا انعقاد
جامعۃ العروۃ الوثقى لاہور میں قومی اُردو کانفرنس کا انعقاد
جامعۃ العروۃ الوثقى لاہور میں قومی اُردو کانفرنس کا انعقاد
جامعۃ العروۃ الوثقى لاہور میں قومی اُردو کانفرنس کا انعقاد
جامعۃ العروۃ الوثقى لاہور میں قومی اُردو کانفرنس کا انعقاد
جامعۃ العروۃ الوثقى لاہور میں قومی اُردو کانفرنس کا انعقاد
جامعۃ العروۃ الوثقى لاہور میں قومی اُردو کانفرنس کا انعقاد
اسلام ٹائمز۔ عالمی یومِ اردو اور یومِ اقبالؒ کے موقع پر پروفیشنلز آف تحریکِ بیداریِ اُمتِ مصطفیٰﷺ کے زیرِاہتمام، جامعۃ العروۃ الوثقى لاہور میں قومی اُردو کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس کا عنوان “اردو قومی زبان، قومی تشخص، قومی پہچان” تھا۔ کانفرنس کی صدارت سربراہ تحریکِ بیداریِ اُمتِ مصطفیٰﷺ علامہ سید جواد نقوی نے کی، جبکہ ملک کی نامور علمی، ادبی، فکری، لسانی اور صحافتی شخصیات شریک ہوئیں۔ مقررین میں سابق سینئر فیڈرل سیکرٹری و چیئرمین مولانا ظفر علی خان فاؤنڈیشن خالد محمود، ماہرِ اقبالیات و پیتھالوجسٹ بریگیڈیئر(ر) ڈاکٹر وحید الزمان طارق، بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ شاعر و مصنف میجر(ر) شہزاد، دانشور و نائب امیر جماعتِ اسلامی ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، معروف کشمیری شاعر احمد فرہاد اور ستارہ امتیاز، معروف مصنف سابق آڈٹ آفیسر صدر قومی زبان تحریک پاکستان جمیل بھٹی، صدر خواتین ونگ قومی زبان تحریک پاکستان فاطمہ قمر و دیگر شامل تھے۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جامعۃ العروۃ الوثقى لاہور میں قومی ا ردو کانفرنس کا انعقاد
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔