وزیراعظم کی آئندہ مون سون سے قبل ہنگامی تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے ہدایات دی ہیں کہ آئندہ برس مون سون سے قبل ملک میں پیشگی انتظامات ہر صورت مکمل ہونے چاہییں۔
وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے اہم اجلاس میں وزیراعظم کو موسمیاتی تبدیلی کے عالمی اشاروں، ممکنہ موسمی پیٹرنز اور وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے تیار کی گئی مختصر، درمیانی اور طویل مدتی منصوبہ بندی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ عالمی تخمینوں کے مطابق آئندہ مون سون سیزن بھی معمول سے ہٹ کر ہو سکتا ہے، اسی لیے وزیراعظم نے پیشگی تیاری کو ناگزیر قرار دیا۔
اجلاس میں وزیراعظم نے قلیل مدتی منصوبے کی باضابطہ منظوری دیتے ہوئے اس پر فوری عملدرآمد کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال مون سون کے دوران ملک کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے جائیں تو صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔
اسی تناظر میں وزیراعظم نے این ڈی ایم اے، وزارت منصوبہ بندی اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کو ہدایت کی کہ وہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہوئے ایک متحدہ اور جامع حکمتِ عملی تیار کریں۔
شہباز شریف نے نیشنل واٹر کونسل کا اجلاس جلد بلانے کی بھی ہدایت کی تاکہ ملک میں پانی کے بہتر انتظام، ممکنہ سیلابی صورتحال، دریاؤں کے بہاؤ اور ڈیموں کی حالت کا جائزہ لے کر بروقت فیصلے کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ براہ راست قومی معیشت، دفاعی حکمت عملی، زرعی پیداوار اور شہری زندگی پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ہر 3 سال بعد جی ڈی پی کا ایک بڑا حصہ ان نقصانات کی تلافی پر خرچ ہو جاتا ہے جو کہ ملکی ترقی کی رفتار کو شدید متاثر کرتا ہے۔
وزیراعظم نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کا عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن اس کے باوجود ملک کو موسمیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نہ بڑے آلودگی پھیلانے والے ملکوں میں شامل ہیں اور نہ ہی دنیا کے بڑے صنعتی ممالک کی طرح بے تحاشہ وسائل رکھتے ہیں، تاہم اس کے باوجود پاکستان کو شدید ہیٹ ویوز، شدید بارشوں، سیلاب، خشک سالی اور زرعی نقصانات جیسے خطرناک رجحانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے متعلقہ اداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ مون سون سے قبل نالوں کی صفائی، شہری نکاسی آب کے نظام کی بہتری، خطرے والے علاقوں کی نشاندہی، سیلابی پانی کی گزرگاہوں کی بحالی، اور ریلیف کے ممکنہ مراکز کی تیاری جیسے تمام اقدامات بروقت مکمل کیے جائیں۔ یہ تمام منصوبہ بندی صرف کاغذوں تک محدود نہ رہے بلکہ عملی پیش رفت واضح طور پر نظر آئے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ موسمیاتی خطرات کو کم کرنے کے لیے مربوط، ڈیٹا پر مبنی اور سائنسی پلاننگ اہم ہے اور اس عمل میں وفاق اور صوبے دونوں کو مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر آج سے ہی مناسب تیاری کر لی جائے تو آئندہ مون سون میں جانی و مالی نقصان میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل موسمیاتی تبدیلی انہوں نے
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔