قومی ترانے کی بے ادبی، ملک مخالف نعرے، گومل یونیورسٹی کے متعدد طلبہ فارغ
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
قومی ترانے کی بے ادبی، ملک مخالف نعرے، گومل یونیورسٹی کے متعدد طلبہ فارغ WhatsAppFacebookTwitter 0 19 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد ( سب نیوز )گومل یونیورسٹی نے کیمپس میں پیش آنے والے متعدد سنگین واقعات کے بعد کئی طلبہ کو یونیورسٹی سے فارغ کر دیا ہے، جس کا اعلان یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری اعلامیے میں کیا گیا ہے۔ اکتوبر میں مختلف تاریخوں پر طلبہ نے بیرونی افراد کے ساتھ مل کر رجسٹرار آفس پر دھاوا بولا، ایک خاتون طالبہ پر حملہ کیا، وائس چانسلر کے دفتر میں زبردستی گھسنے کی کوشش کی، پولیس گارڈ پر حملہ کیا، اور ایک تقریب کے دوران قومی ترانے کی بے ادبی کی۔
ایک اور رپورٹ شدہ واقعے میں کرکٹ میچ کی اسکریننگ کے دوران پاکستان مخالف نعرے لگائے گئے تھے۔واقعے کی تحقیق کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کے بعد معاملہ ڈسپلنری کمیٹی کو بھجوایا گیا، الزام کا سامنا کرنے والے طلبہ کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے اور انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا، مگر ان کے جوابات غیر تسلی بخش پائے گئے۔
یونیورسٹی کے ڈسپلن کے قوانین کے تحت متعلقہ طلبہ کو یونیورسٹی سے بے دخل کر دیا گیا اور ان کے داخلے منسوخ کر دیے گئے، ہاسٹل کے کمرے خالی کرا کر سیل کر دیے گئے، فارغ کیے گئے طلبہ میں امن برکی، عرفان اللہ، ننگیال بٹانی، احسان محسود اور طارق بٹانی شامل ہیں، جب کہ سابق طالب علم عامر بٹانی پر 5 سال کے لیے کیمپس میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
یونیورسٹی نے واضح کیا کہ فارغ کیے گئے طلبہ ملک کی کسی اور تعلیمی ادارے میں بھی داخلہ نہیں لے سکیں گے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایک چھوٹا سا گروہ، جسے تخریبی عناصر کی پشت پناہی حاصل ہے، یونیورسٹی کے پرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہا تھا، مزید کہا گیا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال کی قیادت میں تعلیمی اور انتظامی امور میں نمایاں بہتری کے باوجود کچھ عناصر جھوٹی پروپیگنڈا مہم کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے تھے۔یونیورسٹی نے کیمپس میں سیکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس سے بھی مدد طلب کر لی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی دارالحکومت میں سیون اسٹار ہوٹل کی تعمیر کا فیصلہ وفاقی دارالحکومت میں سیون اسٹار ہوٹل کی تعمیر کا فیصلہ ایف آئی اے نے وزات مواصلات کے ملازم کو دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار کر لیا،ایف آئی آر درج،تفتیش جاری چیئر مین سی ڈی اے کی ہدایت پر اسلام آباد میں تجاوزات ، بلا اجازت تعمیرات اور بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی پر... عدالت کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنائیں،27 ویں آئینی ترمیم پڑھ کر آئیں، آئینی عدالت کے جج کا مکالمہ آئندہ 10 سال میں دنیا میں کوئی کینسر سے نہیں مرے گا لیکن پاکستان میں لوگ مررہے ہوں گے، وزیر صحت وفاقی آئینی عدالت کا سپریم کورٹ رولز 2025 کو اختیار کرنے کا فیصلہ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: یونیورسٹی کے
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔