اسلام آباد میں الیکٹرانک مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:وزیرِ مملکت طلال چوہدری نے کہا ہے کہ قانون سازی صرف پارلیمنٹ کا حق ہے اور ہم یہ عمل جاری رکھیں گے، پارلیمان ہی ریاستی قانون سازی کا اصل مرکز ہے، اس کا اختیار کسی اور ادارے کو نہیں دیا جا سکتا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت کو محفوظ بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں، اسلام آباد کچہری دھماکے کی تحقیقات اور تفتیش جاری ہے، جبکہ سیکیورٹی اداروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ مملکت نے کہا کہ اسلام آباد انتظامیہ کی ذمہ داریاں دیگر شہروں کے مقابلے میں زیادہ ہیں، کیونکہ یہاں سفارتی مشنز، غیر ملکی وفود اور عالمی کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں، حکومت نے حالیہ عرصے میں کئی ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ سطحی وفود کی شاندار میزبانی کی، اور او آئی سی و ایس سی او جیسے بڑے اجلاس کامیابی سے منعقد کیے گئے۔
طلال چوہدری نے انکشاف کیا کہ وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے جدید نظام کے تحت ہر گھر، دفتر اور دکان کا مکمل ریکارڈ تیار کیا جا رہا ہے، اسلام آباد میں اب کوئی گاڑی یا موٹر سائیکل الیکٹرانک ٹیگ کے بغیر داخل نہیں ہو سکے گی، اور شہر میں تمام گاڑیوں کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے لیے مربوط نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔
اس موقع پر آئی جی اسلام آباد نے بھی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دارالحکومت کے شہریوں کا جامع ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے اور محفوظ ہمسائے کے نام سے نیا سیکیورٹی پروگرام لانچ کیا جا رہا ہے، اس منصوبے کا مقصد شہریوں، کاروباری مراکز اور سفارتی تنصیبات کو بہتر سیکیورٹی فراہم کرنا ہے تاکہ اسلام آباد کو ایک محفوظ اور اسمارٹ سٹی کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیا جا رہا ہے اسلام آباد
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔