استعفے دے کر کسی نے کوئی تیر نہیں چلایا، مزید استعفے آئیں گے وہ بھی فوری منظور کیے جائیں گے، فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر فیصل واوڈا نےکہا ہےکہ ابھی شروعات ہیں جو استعفے آتے ہیں وہ فوری منظور ہوں گے، مزید استعفے آئیں گے وہ بھی فوری منظور کیے جائیں گے، استعفے دے کر کسی نے کوئی تیر نہیں چلایا، ویسے بھی سروس میں وقت کم ہی بچا تھا۔
ایک بیان میں سینیٹر فیصل واوڈا نےکہا کہ وہ جس ہلچل کا ذکر پچھلے تین چار دن سےکر رہے تھے، چائے کی پیالی میں وہ طوفان لانےکی کوشش ناکام ہوگئی۔فیصل واوڈا نےکہا کہ استعفے دے کر کسی نے کوئی تیر نہیں چلایا ، ویسے بھی سروس میں وقت کم ہی بچا تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ لفظ یاد رکھیں کہ اب پراکسیز کا حساب ہوگا، قوم کو سمجھ آگئی ہوگی کہ کون کس پارٹی کا سہولت کار تھا۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کا دورہ،پاکستان اور سری لنکا کی ٹیموں سے ملاقات
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: فیصل واوڈا
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔