فلپائن میں کرپشن کا پردہ فاش: صدر مارکوس نے گرفتاریاں یقینی بنانے کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
منیلا: فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے اعلان کیا ہے کہ اس ماہ آنے والے دو طوفانوں کے دوران ہلاکتوں کے بعد غیر قانونی فلڈ کنٹرول منصوبوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی، ان طوفانوں میں کم از کم 259 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق صدر مارکوس نے کہا کہ کرسمس سے پہلے ان میں سے بہت سے افراد کے کیس مکمل کر لیے جائیں گے، یہ لوگ جیل جائیں گے، ان کی کرسمس خوشیوں سے خالی ہوگی۔
محکمہ پبلک ورکس اینڈ ہائی ویز کے سربراہ ونس ڈیزون نے بتایا کہ کم از کم 41 افراد کے خلاف کرسمس سے پہلے قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔
صدر مارکوس نے مزید کہا کہ تحقیق کے آغاز کے تین ماہ بعد بھی وہ ٹیکس چوری کے کیسز کے ذریعے بھاری رقوم کی واپسی ممکن سمجھتے ہیں اور اس عمل کو جاری رکھیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے کزن، سابق اسپیکر ہاؤس مارٹن روموالڈییز، جن کا نام کچھ منصوبوں میں آیا، ابتدائی کیسز میں شامل نہیں ہیں کیونکہ ان کے خلاف ثبوت صرف سینیٹ کے پاس موجود ہیں، کوئی بھی اس تحقیقات سے مستثنیٰ نہیں، کوئی بھی بچ نہیں سکتا۔
ستمبر میں فلپائن میں ہزاروں افراد نے دارالحکومت منیلا سمیت دیگر شہروں میں بڑے مظاہرے کیے تھے، جن میں 9,855 فلڈ کنٹرول منصوبوں میں 545 ارب پیزو (تقریباً 9.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔