پشاور(نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا حکومت نے اسٹریٹ اکانومی اور ریڑھی بانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ملک کی تاریخ کا پہلا جامع قانون متعارف کرانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ ’’احساس ریڑھی بان روزگار تحفظ بل 2025‘‘ کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے، جسے کابینہ منظوری کے بعد ایوان میں پیش کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا ملک کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جس نے ریڑھی بانوں کے حقوق کو مستقل قانونی شکل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں 1.

4 لاکھ سے زائد ریڑھی بانوں کو ریاستی تحفظ کے دائرے میں شامل کیا جا رہا ہے، جس کے بعد ان کی روزی روٹی پر کوئی غیر قانونی کارروائی اثر انداز نہیں ہو سکے گی۔

سہیل آفریدی کے مطابق صوبے کی 380 ارب روپے کی اسٹریٹ اکانومی کو قانونی ڈھانچہ فراہم کر کے تاریخی قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت ہراسانی، رشوت ستانی اور غیر قانونی تجاوزات مہمات کو سنگین جرم قرار دیا جائے گا، جبکہ رجسٹرڈ ریڑھی بانوں کے خلاف بغیر نوٹس کارروائی مکمل طور پر ممنوع ہوگی۔

بل کے اہم نکات میں ریڑھی بانوں کو مائیکرو فنانس، کریڈٹ، انشورنس اور ایمرجنسی سپورٹ تک رسائی فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محفوظ وینڈنگ زونز، واضح حقوق اور قانونی تحفظ کے ذریعے ریڑھی بانوں کی روزانہ کی کمائی کو سرکاری چھتری کے نیچے محفوظ کیا جائے گا۔

نئے نظام میں تحصیل وینڈنگ کمیٹیوں میں ریڑھی بانوں کی نمائندگی لازمی قرار دی گئی ہے تاکہ فیصلوں میں ان کا کردار مؤثر ہو سکے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ اس قانون سازی کا مقصد ریڑھی بانوں کی عزتِ نفس کا احترام اور ان کی کھوئی ہوئی خودی کی بحالی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات عمران خان کے ریاستِ مدینہ کے وژن کے مطابق ہیں، جس میں ہر شہری کو قانون کا مساوی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق یہ بل اسٹریٹ اکانومی کو باقاعدہ، محفوظ اور باعزت راستہ فراہم کرنے کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ریڑھی بانوں کے نے کہا کہ کے مطابق

پڑھیں:

طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار