data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے رواں سال کے مسافروں سے متعلق تازہ اعدادوشمار جاری کر دیے ہیں۔

حکام کے مطابق ایئرپورٹ نے سال کے ابتدائی نو ماہ میں 32 لاکھ پاکستانی مسافروں کو خوش آمدید کہا، اور دبئی کا استعمال کرنے والے مسافروں میں پاکستانی چوتھے نمبر پر رہے۔ پاکستانی شہری سیاحت، کاروبار، ملازمت کے مواقع، خاندانی ملاقاتوں اور یورپ، مشرقِ وسطیٰ و امریکا کے لیے ٹرانزٹ کے طور پر دبئی کا رخ کرتے ہیں۔

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان فضائی سفر میں دبئی ایئرپورٹ کو مرکزی مقام حاصل ہے۔

جولائی سے ستمبر کے درمیان 2 کروڑ 42 لاکھ مسافروں نے دبئی ایئرپورٹ کا استعمال کیا، جو گزشتہ سال کی نسبت 1.

9 فیصد زیادہ ہے۔ یہ تعداد ایئرپورٹ کی 65 سالہ تاریخ میں آنے جانے والے مسافروں کا نیا ریکارڈ بھی ہے۔

جنوری سے ستمبر تک دبئی ایئرپورٹ سے گزرنے والے مسافروں کی مجموعی تعداد 7 کروڑ 1 لاکھ رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.1 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ 12 ماہ کے دوران مسافروں کی تعداد 9 کروڑ 38 لاکھ تک پہنچ گئی، جسے ایک نیا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر دبئی ایئرپورٹ استعمال کرنے والوں میں بھارت 88 لاکھ مسافروں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جبکہ 55 لاکھ سعودی اور 46 لاکھ برطانوی مسافروں نے بھی دبئی ایئرپورٹ کے ذریعے سفر کیا۔

اعدادوشمار کے مطابق دبئی ایئرپورٹ کی کارکردگی بھی متاثر کن رہی۔ بیرونِ ملک روانہ ہونے والے 99.6 فیصد مسافروں کی امیگریشن 10 منٹ میں مکمل ہوئی، جبکہ دبئی پہنچنے والے 99.8 فیصد مسافروں کا امیگریشن پراسیس 15 منٹ میں مکمل ہوا۔

ایئرپورٹ حکام نے بتایا کہ ٹرمینل ون اور ٹرمینل تھری میں توسیعی کام جاری ہیں تاکہ بڑھتے ہوئے مسافروں، خصوصاً جنوبی ایشیائی شہریوں، کی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کیا جا سکے۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دبئی ایئرپورٹ مسافروں کی

پڑھیں:

مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟

ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔

الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔

الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔

گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ’بیگز کے تالے توڑ کر لاکھوں روپے کا سامان نکال لیا گیا‘، لکھنؤ ایئرپورٹ پر حجاج کے ساتھ بڑی چوری
  • اسکردو: معرکہ حق دوسری سرفرنگا نیشنل میراتھن 2026 کا کامیاب انعقاد
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر