data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ابوظبی (انٹرنیشنل ڈیسک) دبئی انٹرنیشنل ائرپورٹ نے اپنی 65 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ سہ ماہی ٹریفک ریکارڈ کرتے ہوئے جولائی سے ستمبر تک 3 ماہ کے دوران 2 کروڑ 42 لاکھ مسافروں کو خوش آمدید کہا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.

9 فیصد اضافہ ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق تیسری سہ ماہی کی اس مضبوط کارکردگی کے باعث سال کے پہلے 9ماہ کے دوران مجموعی مسافروں کی تعداد 7 کروڑ ایک لاکھ تک پہنچ گئی جو سالانہ بنیادوں پر 2.1 فیصد اضافہ ہے۔ ستمبر کے اختتام تک ائرپورٹ کا 12 ماہ کی مجموعی ٹریفک 9 کروڑ 38 لاکھ کے نئے ریکارڈ پر پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق تیسری سہ ماہی میں ایک لاکھ 15 ہزار پروازیں ریکارڈ کی گئیں جبکہ جنوری سے ستمبر تک مجموعی طور پر 3 لاکھ 36 ہزار پروازیں ہوئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.7 فیصد زیادہ ہیں۔ ستمبر کے آخر تک فی طیارہ اوسط 213 مسافر رہے۔دبئی ائرپورٹ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شاندار کارکردگی کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لیے بھی بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی جاری ہے۔ ائرپورٹ میں مسافروں کے تجربے کو مزید بہتر بنانے کے لیے ٹرمینلز میں بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم