دبئی دنیا کی سب سے بڑی آٹو مارکیٹ تعمیر کرے گا، گاڑیوں کی تجارت میں بڑا اضافہ متوقع
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
دبئی حکومت نے دنیا کی سب سے بڑی اور جدید آٹو مارکیٹ ( گاڑیوں کا بازار ) بنانے کا اعلان کیا ہے۔
دبئی کی موجودہ آٹو ٹریڈنگ کی مالیت 6.8 بلین درہم (تقریباً 51.4 ارب پاکستانی روپے) تک ہے جس کو دوگنا کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
مارکیٹ کا رقبہ 2 کروڑ 20 لاکھ اسکوائر فٹ پر مشتمل ہوگا اور سالانہ 8 لاکھ سے زائد گاڑیوں کی لین دین کرسکے گی۔
’’دبئی آٹو مارکیٹ‘‘ میں 1,500 سے زائد شورومز، مخصوص ورکشاپ زونز، گودام، ملٹی اسٹوری پارکنگ، آکشن ہاؤس، کنونشن سینٹر، ہوٹل، ریٹیل اور فوڈ اینڈ بیوریج آؤٹ لیٹس شامل ہوں گے۔
گاڑیوں کی مارکیٹ کا منصوبہ دبئی کی تجارتی بندرگاہ جبل علی کے زیر انتظام ہوگا، جس کو گاڑیوں کی تجارت اور ری ایکسپورٹ کے عالمی نیٹ ورک کے باعث منتخب کیا گیا۔
متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم شیخ مکتوم بن محمد بن راشد المکتوم نے منصوبے کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ آٹو مارکیٹ کا مقصد 2033 تک دبئی کی معیشت کو دوگنا کرنا ہے۔
یہ مارکیٹ الیکٹرک، ہائبرڈ اور روایتی گاڑیوں کی عالمی تجارت کو ایک جگہ سمیٹ دے گی اور افریقہ، مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا کے تیزی سے بڑھتے بازاروں کو براہ راست جوڑے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ٹو مارکیٹ گاڑیوں کی
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔