ظہران ممدانی نے ملاقات کی درخواست کی ہے، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیو یارک کے نئے میئر ظہران ممدانی نے ملاقات کی درخواست کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ یہ میٹنگ جمعہ 21 نومبر کو اوول آفس میں ہوگی۔
علاوہ ازیں واشنگٹن میں امریکا سعودی بزنس فورم سے خطاب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاک بھارت جنگ ساڑھے تین سو فی صد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی سے روکی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت ایٹمی جنگ کے قریب تھے ۔ میں نے کہا جنگ نہیں روکیں گے تو میں ٹیرف لگاؤں گا۔ امریکا کے ساتھ تجارت نہیں کر سکیں گے۔ میں نے کہا میں ایٹمی ہتھیار چلانے نہیں دوں گا جس سے لاکھوں لوگ مارے جائیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نے فون کر کے کہا کہ وہ جنگ میں نہیں جارہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے کال کر کے میرا شکریہ ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔