الیکشن کمیشن کا سہیل آفریدی کے سرکاری ملازمین کو دھمکی آمیز بیان پر نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا ضمنی انتخاب پر مامور سرکاری ملازمین کےخلاف دھمکی آمیز الفاظ کا نوٹس لے لیا۔
الیکشن کمیشن نے آج صبح اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں سہیل آفریدی کے معاملے پر مناسب قانونی کارروائی کرنے پر غور کیا جائےگا۔
دوسری جانب ترجمان وزیراعلیٰ پختونخوا نے کہاکہ وزیراعلیٰ کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جارہا ہے۔
ترجمان وزیر اعلی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ایبٹ اباد جلسے کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے،وزیراعلیٰ کا پیغام واضح تھا، الیکشن میں مداخلت پر سخت “قانونی کارروائی” ہوگی۔
ترجمان نے کہا کہ انتخابات میں مداخلت جرم ہے، وزیراعلیٰ نے اسی قانونی حقیقت کی نشاندہی کی، الیکشن کے دوران کسی بھی غیرقانونی کارروائی کے لیے فوری اور مناسب قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ نے کسی شخص کو دھمکی نہیں دی، بات محض قانون کے نفاذ کی تھی، ایماندار افسران مکمل تحفظ میں ہیں، صرف قانون توڑنے والوں کو جواب دینا ہوگا، وزیراعلیٰ کے بیان کو غلط رنگ دینا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے، صوبائی حکومت ہر قیمت پر شفاف اور غیرجانبدارانہ ضمنی انتخابات یقینی بنائے گی۔
سہیل آفریدی نے ایبٹ آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 23 نومبر کو ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی امیدوار عمر ایوب کی اہلیہ 2 لاکھ ووٹ لیکر کامیاب ہوں گی۔
انہوں نے انتظامیہ اور پولیس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن کے دن بدمزگی ہوئی تو آپ رات تک عہدوں پر نہیں رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔