سہیل آفریدی کا دھمکی آمیز بیان، عمر ایوب کی خالی نشست پر ضمنی انتخاب کےلیے پاک فوج طلب
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کی خالی نشست این 18 میں ضمنی الیکشن کے لیے پاک فوج کو طلب کرلیا۔
الیکشن کمیشن نے سول آرمڈ فورسز کی طلبی کیلئے سیکرٹری دفاع کو خط لکھ دیا، الیکشن کمیشن نے ہری پور میں فول پروف سیکیورٹی کے لیے سیکرٹری داخلہ کو بھی خط لکھ دیا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں ضلعی انتظامیہ پولیس اور الیکشن عملے کو دھمکایا، جلسے میں موجود عوام اور عمومی طور پر لوگوں کو اکسانے پر نوٹس لیا گیا۔
الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس موقع پر وزیراعلی کے ہمراہ ایک مفرور مجرم بھی کھڑا تھا جس کی اہلیہ الیکشن میں حصہ لے رہی ہے، صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے باعث این اے 18 ہری پور میں پرامن ضمنی انتخاب کا انعقاد مشکل ہو گیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن ڈیوٹی پر مامور عملے اور ووٹروں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوا ہے۔
کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنر کے پی کے کو فوری چیف سیکرٹری اور آئی جی سے ملاقات کی ہدایت کی، صوبائی الیکشن کمشنر کو ضروری حفاظتی اقدامات کے بعد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔