وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
وکیل وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پر اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں مقدمات درج ہیں، وزیر اعلی کو تفصیل فراہم کر دی جائے تاکہ وہ متعلقہ عدالتوں میں رجوع کر سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی حفاظتی ضمانت اور مقدمات کی تفصیل کے دائر درخواست پر پشاور ہائیکورٹ میں اہم سماعت ہوئی۔ جسٹس اعجاز انور اور جسٹس وقار احمد نے درخواست پر سماعت کی۔ وکلاء ہڑتال کے باعث سماعت نہ ہو سکی۔ عدالت نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی حفاظتی ضمانت میں 27 نومبر تک توسیع کرتے ہوئے متعلقہ فریقین سے مقدمات کی تفصیل دوبارہ طلب کرلی۔ عدالت نے وزیر اعلیٰ کو 27 نومبر تک کسی بھی درج مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا۔ وکیل وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پر اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں مقدمات درج ہیں، وزیر اعلی کو تفصیل فراہم کر دی جائے تاکہ وہ متعلقہ عدالتوں میں رجوع کر سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وزیر اعلی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔