نمونیا کا عالمی دن: ہر سانس کی حفاظت کریں، ہر زندگی بچائیں
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
ہر سال 12 نومبر کو دنیا بھر میں نمونیا کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ اس مہلک بیماری کے بارے میں شعور اجاگر کیا جا سکے اور عوام کو اس کے اثرات اور روک تھام کے اقدامات سے آگاہ کیا جا سکے۔ نمونیا نہ صرف بچوں بلکہ بزرگ افراد کے لیے بھی خطرناک ہے اور یہ دنیا بھر میں بچوں اور بوڑھوں میں موت کی سب سے بڑی متعدی وجوہات میں سے ایک ہے۔
2025 کے تازہ عالمی اعداد و شمار کے مطابق، ہر سال تقریباً 1.
نمونیا کیا ہے؟
نمونیا ایک ایسا انفیکشن ہے جو پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس میں ہوا کے تھیلے سیال یا پیپ سے بھر جاتے ہیں، جس سے پھیپھڑوں کی معمول کی فعالیت متاثر ہوتی ہے اور جسم میں آکسیجن کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ یہ وائرس، بیکٹیریا، یا فنگس کی وجہ سے پیدا ہو سکتا ہے، اور اکثر نیوموکوکس بیکٹیریا، انفلوئنزا وائرس اور دیگر سانس کے وائرس اس کے بنیادی اسباب ہوتے ہیں۔
صحت مند بالغ افراد اکثر علاج سے مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں، مگر چھوٹے بچے، بزرگ، اور کمزور مدافعت والے افراد شدید خطرے میں رہتے ہیں۔
عالمی دن کی اہمیت
نمونیا کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کوئی بھی اپنی زندگی صرف اس بیماری کی وجہ سے نہیں گنوانا چاہیے۔
یہ دن ویکسین تک رسائی، بروقت تشخیص، علاج، اینٹی بایوٹکس، اور آکسیجن کی دستیابی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اسی طرح یہ کمیونٹی، صحت کارکنان، اور حکومتی اداروں کو ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے تاکہ کم سے کم لوگ قابل علاج بیماری کی وجہ سے ہلاک ہوں۔
نمونیا کے عالمی دن کی اہمیت:
عوام کو نمونیا کے سنگین خطرات سے آگاہ کرنا۔
ابتدائی طبی دیکھ بھال اور علاج کی حوصلہ افزائی کرنا۔
ویکسینیشن کی اہمیت کو اجاگر کرنا۔
تحقیق اور صحت کی سہولیات تک رسائی میں اضافہ کرنا۔
حفظان صحت کی آسان عادات کو فروغ دینا، جیسے ہاتھ دھونا اور تمباکو نوشی سے پرہیز۔
نمونیا کی روک تھام اور ویکسینیشن
نمونیا کی روک تھام کے لیے متعدد اقدامات ممکن ہیں:
ویکسینیشن: نیوموکوکل کنجوگیٹ ویکسین، Hib ویکسین، اور انفلوئنزا ویکسین بچوں اور بزرگوں کو بیکٹیریل نمونیا سے بچاتی ہیں۔
دودھ پلانا اور اچھی غذائیت: شیر خوار بچوں میں خصوصی دودھ پلانے اور متوازن غذا قوت مدافعت مضبوط کرتی ہے۔
صاف ہوا اور کم آلودگی: انڈور دھواں اور بیرونی فضائی آلودگی سے بچاؤ۔
تمباکو نوشی سے پرہیز: پھیپھڑوں کی صحت کے لیے ضروری۔
ہاتھ دھونا اور بیماری کی صورت میں گھر میں رہنا
دائمی امراض کی دیکھ بھال: جیسے دمہ اور ذیابیطس۔
جدید اعداد و شمار اور عالمی رویہ
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق، نمونیا کی وجہ سے 2023 میں دنیا بھر میں تقریباً 14 لاکھ بچے ہلاک ہوئے، اور بالغ افراد میں اموات کا تخمینہ تقریباً 1.2 ملین ہے۔
یونیسف اور دیگر عالمی ادارے ویکسین کے ذریعے سالانہ تقریباً 300,000 بچوں کی جان بچانے کا تخمینہ لگاتے ہیں۔
نمونیا سے بچاؤ کے لیے کم لاگت اقدامات جیسے ہاتھ دھونا، صاف پانی، اور تمباکو سے پرہیز انتہائی مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔
آپ کیسے حصہ ڈال سکتے ہیں؟
اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ نمونیا سے بچاؤ کے پیغامات شئیر کریں۔
بچوں اور بزرگوں کے لیے ویکسینیشن کی حوصلہ افزائی کریں۔
مقامی صحت کے پروگراموں میں رضاکارانہ خدمات یا عطیات فراہم کریں۔
حفظان صحت کی آسان عادات کو اپنا کر نمونیا کے خطرے کو کم کریں۔
نمونیا ایک قابل علاج اور قابل روک بیماری ہے، مگر بروقت اقدامات نہ کیے جائیں تو یہ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ عالمی یوم نمونیا 2025 ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر سانس کی قدر کریں، ہر زندگی کو بچائیں، اور کمیونٹی، خاندان، اور حکومت کے ساتھ مل کر ایک صحت مند، نمونیا سے پاک دنیا کی طرف قدم بڑھائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نمونیا کی نمونیا سے کی وجہ سے عالمی دن کی اہمیت کے لیے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔