رجب بٹ کی شراب نوشی پر والدہ کی وضاحت آگئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
رجب بٹ کی شراب نوشی کے الزام پر ان کی والدہ کی وضاحت سامنے آگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کچھ روز قبل رجب بٹ کی نشے کی حالت میں چیٹ وائرل ہوئی تھی جس میں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ نشے کی حالت میں نامناسب الفاظ استعمال کرتے سنے گئے تھے۔
اُن کی جب یہ چیٹ وائرل ہوئی اور سوشل میڈیا پر تنقیدوں کا انبار لگ گیا تو رجب بٹ کی والدہ نے اپنے بیٹے کے اس رویے پر وضاحت جاری کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ رجب بٹ “نشے میں نہیں تھا” بلکہ دوا کے اثر میں تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کا بیٹا سردیوں میں سائنس، گلے اور نزلے کی تکالیف کا شکار رہتا ہے اور وہ ایسی ادویات لیتا ہے جن سے غنودگی آتی ہے۔
جب وہ خود رجب کے ساتھ ہوتی ہیں تو “قدرتی علاج” استعمال کرتی مثلاً گرم پانی اور ہربل چائے، مگر وہ بیرونِ ملک ہے، اس لیے دواؤں پر انحصار کرنا پڑا۔
انہوں نے مذہبی اور ثقافتی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میرا بیٹا حسینی ہے، یزیدی نہیں، شراب ہمارے کلچر اور مذہب میں حرام ہے۔
وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ چونکہ وہ جس ملک میں ہے وہاں شراب پینا عام ہے لوگ اس بنیاد پر قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رجب بٹ کی
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔