data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کوئٹہ ( آئی این پی )جمعیت علما اسلام پاکستان کے صوبائی امیر مولانا عبدالمالک،حاجی عبدالرزاق لانگو، پروفیسر حسین احمد شیرانی، مولانا عبدالغنی ساسولی اور ڈاکٹر حفیظ الرحمن کھوسہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ کوئٹہ شہر میں روزانہ کی بنیاد پر سیکورٹی وجوہات کے نام پر موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروسز بند کرنے کا سلسلہ اب ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے یہ اقدامات نہ صرف حکومت کی شدید انتظامی ناکامی ظاہر کرتے ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کو معاشی، تعلیمی اور سماجی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیتے ہیں ڈیٹا سروس کی اچانک بندش نے کوئٹہ کے عوام کو جدید دنیا سے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ آج کے دور میں انٹرنیٹ بنیادی ضرورت ہے کاروبار، تعلیم، بینکنگ، ٹرانسپورٹ، اسپتال، اور روزمرہ مواصلات کا انحصار اسی پر ہے۔ صرف سکیورٹی خدشات کے نام پر پورے شہر کو ہر بار ڈیجیٹل بلیک آٹ کرنا نہ کوئی حل ہے، نہ ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر سکیورٹی خطرات واقعی موجود ہیں تو یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ ان کا مستقل اور پیشہ ورانہ حل نکالے شہریوں کو بار بار اندھیرے میں دھکیل دینا، مسائل سے بھاگنے کا طریقہ ہے حقیقت یہ ہے کہ حکومت سیکورٹی کے نام پر اپنی کمزور کارکردگی اور ناکامی چھپا رہی ہے، جب کہ شہری ہر روز معاشی نقصانات، تعلیمی تاخیر، اور رابطے کے بحران کا بوجھ اٹھا رہے ہیں کوئٹہ کے عوام کے ساتھ یہ رویہ کھلی ناانصافی ہے تاجر ڈیٹا پر چلنے والے کاروباری نظام سے محروم ہو جاتے ہیں، طلبہ آن لائن کلاسز سے، ڈاکٹرز اور مریض اہم رابطوں سے، بینکنگ سسٹم معطل ہو جاتا ہے، جبکہ ہر شہری شدید ذہنی دبائو کا شکار ہے کہ انٹرنیٹ آج کب بند ہوگا اور کب کھلے گا ۔

خبر ایجنسی گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت