کوئٹہ، 20 گھنٹے بحال رہنے کے بعد انٹرنیٹ سروسز دوبارہ بند
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
ایک ہفتے سے کوئٹہ میں موبائل انٹرنیٹ سروسز بند تھے، گزشتہ روز انٹرنیٹ سروسز کو بحال کیا گیا، تاہم 20 گھنٹے گزرنے کے بعد انٹرنیٹ سروسز کو دوبارہ بند کر دیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت بلوچستان نے کوئٹہ میں موبائل انٹرنیٹ سروسز کو 20 گھنٹوں کے لئے بحال رکھنے کے بعد دوبارہ بند کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے سے کوئٹہ میں موبائل انٹرنیٹ سروسز بند تھے، گزشتہ روز انٹرنیٹ سروسز کو بحال کیا گیا، تاہم 20 گھنٹے گزرنے کے بعد انٹرنیٹ سروسز کو دوبارہ بند کر دیا گیا۔ ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے اس سے قبل سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انٹرنیٹ بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ انٹرنیٹ سروسز مزید معطل رہ سکتے ہیں۔ دوسری جانب عوام الناس کی جانب سے حکومتی اقدامات پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ آنلائن کاروبار سے وابستہ افراد، طلباء اور دیگر افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، تاہم حکومت عوامی رائے سے بے نیاز نظر آ رہی ہے۔ عوام الناس کا کہنا ہے کہ حکومت بلوچستان اور محکمہ داخلہ مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔ اب ان کا کام صرف عوام کو تکلیف پہنچانا رہ گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انٹرنیٹ سروسز کو کے بعد
پڑھیں:
لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
فوٹو: آن لائنلاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔
تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔
منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔