پیپلز کانفرنس کے چئیرمین نے کہا کہ لاکھوں کشمیری کاروباریوں، تعلیم اور ملازمت کے سلسلے میں بھارت کی کئی ریاستوں میں مقیم ہیں اور انکے اہل خانہ انکی سلامتی کیلئے کافی تشویش میں مبتلا ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے چئیرمین سجاد لون نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک بھر میں کشمیریوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے کسی بھی شہری بشمول کشمیریوں کو اپنے ہی ملک میں ہراسانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا چاہیئے۔ انہوں نے ملک کے مختلف حصوں سے کشمیریوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی ہراسانی کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ملک میں کشمیریوں کو منفی انداز میں پیش کرنا ایک پسندیدہ مشغلہ بنتا جارہا ہے جو کہ صیحح نہیں ہے۔

سجاد لون کے مطابق لاکھوں کشمیری کاروباریوں، تعلیم اور ملازمت کے سلسلے میں بھارت کی کئی ریاستوں اور یوٹیز میں مقیم ہیں اور ان کے اہل خانہ ان کی سلامتی کے لئے کافی فکر و تشویش میں مبتلا رہتے ہیں۔ انہوں نے شدت پسندی پر کہا کہ ہر معاشرے میں چند شدت پسند عناصر ہوتے ہیں لیکن ان کی بنیاد پر پوری کمینونٹی کو نہیں بھانپا اور چانچا جاسکتا ہے۔ ادھر پی ڈی پی کے ایم ایل اے میر فیاض نے ہماچل پردیش کے گورنر شیو پرتاب شکلا سے کشمیری ریڑھی والوں کے ساتھ پیش آئے ہراسانی ہے واقعے پر بات کی۔ پی ڈی پی نے ایکس پر لکھا کی گورنر نے مناسب کارروائی کی یقین دہائی کرائی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا