ٹوئنکل کھنہ اور کاجول کا شادی سے قبل ایک ہی مرد سے تعلقات کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
ممبئی(شوبز ڈیسک)بالی ووڈ کی گلیمرس دنیا سے جڑے اداکار آئے روز نئی انکشافات کرتے ہیں اور مداحوں کو ورطہ حیرت میں مبتلا کردیتے ہیں، بعض اوقات سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بن جاتے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بالی ووڈ کی مقبول اداکارہ ٹوئنکل کھنہ نے حال ہی میں اپنے شو میں انکشاف کیا ہے کہ شادی سے قبل وہ اور کاجول کے ایک ہی مرد سے تعلقات تھے، یہ انکشاف انہوں نے دونوں اداکاؤں کے درمیان شو میں مذاق اور خوش گیپیوں کے دوران کیا۔
ٹوئنکل کھنہ اور کاجول کی ایک دوسرے کے ساتھ مذاق اور گفتگو کے دوران ماضی کا قصہ سامنے آنے پر سوشل میڈیا بھی متحرک ہوگیا اور ان کی بات فوری طور پر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی۔
شو میں اس وقت ڈرامائی صورت حال پیش آئی جب ٹوئنکل کھنہ سوال کیا کہ اچھی سہیلیاں ایک دوسرے کے سابق دوست کے ساتھ ڈیٹ نہیں کرتی ہیں اور تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے اپنے دوست کسی مرد سے زیادہ اہم ہیں اور وہ تو کہیں پر بھی مل جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا ایک ہی ایکس تھا لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں، جس پر کاجول نے کہا کہ چپ رہے میں آپ سے درخواست کر رہی ہوں لیکن جب تک بڑا انکشاف ہوچکا تھا اور وہاں موجود لوگ حیرت زدہ تھے۔
اسی دوران انہوں نے کہا کہ کیا شادی کی ایکسپائری تاریخ اور دوبارہ بحال کرنے کا موقع ملنا چاہیے لیکن دوسری طرف کاجول نے غیرمتوقع جواب دیا اور کہا کہ میں بالکل ایسا ہی سمجھتی ہوں کیونکہ اس بات کی کیا ضمانت ہے صحیح وقت میں آپ کی شادی صحیح آدمی سے ہو رہی ہے۔
کاجول نے کہا کہ اگر ایکسپائری تاریخ ہے تو تعلقات بحالی کا موقع سمجھ میں آتا ہے اور کسی کو بھی طویل عرصے تک مشکل سے نہیں گزرنا چاہیے اور وہ ٹوئنکل کھنہ کو بھی اپنی رائے سے متفق کرنے کی کوشش کرتی ہوئی نظر آئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔