اسلام آباد: وفاقی وزیرِ موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا ہے کہ سیلاب سے ہونے والے جانی نقصانات اور تباہ کاریوں کو روکنا اب ملکی سیاست اور حکمتِ عملی کا بنیادی محور ہونا چاہیے، کیونکہ حالیہ برسوں میں سیلاب نے معیشت، انفرا اسٹرکچر اور انسانی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔

اسلام آباد میں چیئرمین این ڈی ایم اے کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصدق ملک نے بتایا کہ 2022 کے تاریخی سیلاب نے ملکی معیشت کو 9 فیصد جی ڈی پی کے برابر نقصان پہنچایا۔ گزشتہ تین سے چار بڑے سیلابوں کے دوران 4 ہزار 500 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 4 کروڑ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے، رواں برس بھی صورتحال تشویش ناک رہی اور سیلاب نے 31 لاکھ افراد کو متاثر یا بے گھر کیا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آئندہ 200 دنوں میں ایک مربوط اور جامع حکمت عملی کے تحت سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے مضبوط اقدامات کیے جائیں گے، موجودہ نکاسی آب کا نظام موسمیاتی شدت اور غیر معمولی بارشوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس لیے حکومت طویل مدتی منصوبہ بندی کے تحت اگلے پانچ سال میں موسمیاتی مطابقت رکھنے والا انفرا اسٹرکچر تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

مصدق ملک نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نے فوری طور پر ارلی وارننگ سسٹم کو جدید، مربوط اور فعال بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ تحصیل اور ضلع کی سطح پر وارننگ کا موثر نظام قائم کیا جائے گا تاکہ متعلقہ علاقوں کو بروقت الرٹ مل سکے۔ “اسلام آباد کو خبر بعد میں ملے گی، پہلے وہ علاقے وارننگ پائیں گے جہاں حقیقی خطرہ موجود ہو۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ملک بھر میں آبی گزرگاہوں پر قائم تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے گا، جبکہ دریا کے سیلاب، فلش فلڈز، نکاسی آب کی ناکامی اور ساحلی علاقوں میں تباہی کے مسائل وزیراعظم کے سامنے رکھ دیے گئے ہیں۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنا اب اختیاری نہیں بلکہ ناگزیر قومی ترجیح بن چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل مصدق ملک

پڑھیں:

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

 وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی