کراچی میں رواں برس ٹریفک حادثات سے اموات 755 تک پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: سال کے اختتام سے چند ہفتے قبل شہر قائد میں ٹریفک حادثات کی صورتحال ایک بار پھر تشویش ناک شکل اختیار کرچکی ہے۔
مختلف شاہراہوں، مصروف مارکیٹوں، رہائشی علاقوں اور انٹر سٹی روٹس پر پیش آنے والے حادثات کے نتیجے میں رواں برس ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 755 تک پہنچ گئی ہے، جب کہ 10 ہزار 800 سے زیادہ شہری زخمی ہوئے، جن میں بڑی تعداد نوجوانوں اور پیدل چلنے والوں کی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فلاحی ادارے چھیپا فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری اعداد و شمار نے یہ واضح کر دیا ہے کہ شہر کے ٹریفک نظام میں سنگین خامیاں بدستور موجود ہیں اور ہیوی ٹریفک کی بے احتیاطی شہریوں کی زندگی کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 579 مرد شامل ہیں، جب کہ 73 خواتین نے مختلف حادثات میں جان گنوائی۔ اسی طرح 71 بچے اور 22 بچیاں بھی ٹریفک حادثات کی بھینٹ چڑھ گئیں۔
رپورٹ کے مطابق زخمی ہونے والوں کی تعداد 10 ہزار 856 سے زائد رہی، جن میں زیادہ تر نوجوان موٹر سائیکل سوار شامل ہیں۔ شہر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، اوور اسپیڈنگ، ون وے کی خلاف ورزی، ہیلمٹ کا استعمال نہ ہونا اور غیر تربیت یافتہ ڈرائیونگ وہ بنیادی عوامل ہیں جو اس طرح کے ہزاروں حادثات کا سبب بن رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سال کے 317 دنوں میں شہر بھر میں ہیوی گاڑیوں سے ہونے والے حادثات میں 227 افراد جاں بحق ہوئے۔ ان میں ٹریلرز سب سے زیادہ جان لیوا ثابت ہوئے، جن کی ٹکر سے 86 افراد نے دم توڑا۔ واٹر ٹینکر دوسرے نمبر پر رہے، جن کے باعث 50 شہری ہلاک ہوئے۔ اسی طرح ڈمپر حادثات میں 40 اور تیز رفتار بسوں سے ہونے والے واقعات میں 31 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ علاوہ ازیں مزدا گاڑیوں سے ہونے والے حادثات میں 20 شہری زندگی سے محروم ہوئے۔
اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ سڑکوں پر بے قابو، بے ہنگم اور بغیر کسی چیک اینڈ بیلنس کے چلنے والی بھاری گاڑیاں عام شہریوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حادثات میں کے مطابق
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔