دبئی ایئرشو میں جے ایف 17 تھنڈر کے چرچے، فروخت کیلیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
دبئی ایئر شو میں پاکستان نے دوست ملک کے ساتھ جے ایف 17 تھنڈر کی فروخت کے ایم او یو پر دستخط کر دئیے۔
دبئی ایئر شو 2025 کے موقع پر سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی دوست ممالک کے فضائی سربراہان سے سلسلہ وار اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ہوئیں۔
سربراہ پاک فضائیہ نے متحدہ عرب امارات کے انڈر سیکرٹری برائے دفاع لیفٹیننٹ جنرل پائلٹ ابراہیم ناصر العلاوی اور کمانڈر یو اے ای ائیر فورس اینڈ ائیر ڈیفنس میجر جنرل راشد محمد الشمسی سے بھی تفصیلی ملاقاتیں کیں۔
جن میں اعلیٰ تربیت کے شعبوں میں تعاون کا فروغ، ابھرتی ہوئی ایرو اسپیس ٹیکنالوجیز میں اشتراک اور آپریشنل ہم آہنگی کے نظام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اماراتی عسکری قیادت نے پاک فضائیہ کی جدت طرازی، بڑھتی ہوئی مقامی صلاحیتوں اور مقامی ترقی کو سراہتے ہوئے مشترکہ مشقوں، پیشہ ورانہ تبادلوں اور مستقبل کی بین العسکری شراکت داریوں کو مزید استوار کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
پاکستان ایئر فورس کا دستہ دبئی ایئر شو 2025 میں شرکت کے لیے متحدہ عرب امارات میں موجود ہے۔
یہ شرکت پاکستان ایئر فورس کی پیشہ ورانہ صلاحیت، عالمی فضائی برادری کے ساتھ مضبوط روابط اور خطے میں امن و استحکام کے عزم کی نمایاں ترجمانی ہے۔
ایئر شو کے دوران جے ایف–17 تھنڈر بلاک تھری طیارہ خصوصی توجہ کا مرکز رہا جہاں دفاعی تجزیہ کاروں، ہوا بازی کے ماہرین و شایقین نے اس میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔
جدید ٹیکنالوجی، مضبوط جنگی صلاحیتوں اور معرکہء حق میں اس کی ثابت شدہ عملی کارکردگی نے جے ایف–17 تھنڈر کو ایک قابلِ اعتماد اور کم لاگت کثیر المقاصد لڑاکا طیارے کے طور پر مزید نمایاں کیا ہے۔
پاکستان کی ایوی ایشن انڈسٹری پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اعتماد کے باعث مختلف ممالک نے جے ایف–17 تھنڈر میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
اس موقع پر ایک دوست ملک کے ساتھ جے ایف–17 تھنڈر کی خریداری سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے، جو پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی اور صنعتی تعاون میں ایک نمایاں سنگِ میل ہے۔
یہ معاہدہ طیارے کی عالمی مقبولیت اور پاکستان کی ایرو اسپیس صلاحیتوں پر مستقل بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جے ایف 17 تھنڈر دبئی ایئر ایئر شو
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم