سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس نے اپنے پلیٹ فارم پر موجود صارفین کی لوکیشن دکھانے کا نیا فیچر متعارف کرا دیا۔

رپورٹ کے مطابق نئے فیچر کے ذریعے صارفین اپنے علاوہ دوسروں کی پروفائلز پر جا کر یہ دیکھ سکیں گے کہ کسی فرد یا اکاؤنٹ کا اصل مقام کیا ہے، یہ فیچر صارفین کے بارے میں مزید معلومات ظاہر کرے گا تاکہ لوگ یہ جان سکیں کہ وہ پلیٹ فارم پر کس سے بات کر رہے ہیں۔

???? X disables profile location feature hours after launch — as major US right wing X accounts turn out to be Indians cosplaying as Western conservatives.

— South Asia Index (@SouthAsiaIndex) November 22, 2025

گذشتہ روز اس فیچر کا اعلان کرتے ہوئے ایکس کے ہیڈ آف پراڈکٹ کا کہنا تھا کہ چند گھنٹوں میں ہم About This Account (اس اکاؤنٹ کی معلومات) کے فیچر کو عالمی سطح پر متعارف کرائیں گے، جس سے آپ دیکھ سکیں گے کہ کوئی اکاؤنٹ کس ملک یا علاقے میں واقع ہے۔ یہ معلومات پروفائل پر ایکس پر اکاؤنٹ بنانے کی تاریخ پر ٹیپ کرنے سے دستیاب ہو گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ اس سوشل پلیٹ فارم کی شفافیت اور سچائی کو یقینی بنانے کی جانب پہلا اہم قدم ہے۔ ’ہم مستقبل میں صارفین کے لیے اور بھی طریقے فراہم کریں گے تاکہ وہ ایکس پر نظر آنے والے مواد کی صداقت کی تصدیق کر سکیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان ممالک کے لیے جہاں اظہارِ رائے پر پابندیاں ہیں، پرائیویسی ٹولز شامل کیے گئے ہیں تاکہ صارف صرف اپنا علاقہ ظاہر کر سکے اور تفصیلی لوکیشن نہ دکھائی جائے۔

اس حوالے سے گذشتہ ماہ ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ جب آپ ایکس پر مواد پڑھ رہے ہوں تو آپ کو اس کی تصدیق کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔ ’یہ دنیا میں ہونے والے اہم مسائل کی صورتحال سمجھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔‘

’اسی سلسلے میں ہم پروفائلز پر نئی معلومات دکھانے کا تجربہ کر رہے ہیں جس میں یہ بھی شامل ہے کہ اکاؤنٹ کس ملک سے تعلق رکھتا ہے اور دیگر تفصیلات۔‘

اپنے اکاؤنٹ کی معلومات ویب یا ایکس موبائل ایپ میں دیکھنے کے لیے آپ اپنے پروفائل پر ’جوائنڈ‘ (ایکس پر اکاؤنٹ بنانے کی تاریخ) پر کلک کریں گے۔ یہاں سے آپ ایک صفحے پر پہنچ جائیں گے جو یہ معلومات دکھاتا ہے کہ یہ ایکس یا ٹوئٹر اکاؤنٹ کب بنایا گیا؟، اکاؤنٹ کس ملک میں ہے؟ کتنی بار نام تبدیل کیا گیا اور آخری تبدیلی کب ہوئی، اکاؤنٹ ایکس سے کیسے منسلک ہیں، مثلاً امریکہ کے ایپ سٹور سے یا گوگل پلے کے ذریعے۔

ایکس کے مطابق یہ فیچر صارف کے اکاؤنٹ میں دی گئی معلومات، آئی پی ایڈریس اور دیگر پبلک ڈیٹا پوائنٹس کی بنیاد پر لوکیشن ظاہر کرتا ہے۔

اگر کسی صارف نے اپنی پروفائل میں اپنا ملک یا شہر شامل کیا ہے، تو وہ ظاہر ہوگا، اگر صارف نے لوکیشن خفیہ رکھی ہے، تو سسٹم قریب ترین مقام ظاہر کرنے کی کوشش کرے گا، یہ فیچر خاص طور پر ان مشہور اکاؤنٹس کے لیے مددگار ہے جو اپنی لوکیشن واضح کرنا چاہتے ہیں یا جن میں صارفین کی دلچسپی زیادہ ہو۔

یہاں یہ یاد رہے کہ ایکس صارفین کو یہ بھی اختیار دیتا ہے کہ وہ اپنی لوکیشن ملک ظاہر کریں یا صرف علاقہ یا خطہ۔

پہلے یہ صرف اُن ممالک کے لیے تھا جہاں اظہارِ رائے پر پابندیاں ہو سکتی ہیں، لیکن اب امریکی صارفین بھی ملک یا خطہ دکھانے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ تاہم ڈیفالٹ کے طور پر ملک ہی دکھایا جائے گا۔

ایکس پر مختلف صارفین نے بھی پاکستانی سیاستدانوں کے اکاؤنٹس کی لوکیشن کے شکرین شاٹ شئیر کیے، سابق وزیر اعظم عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ  کا مقام غربی ایشیا نظر آ رہا ہے۔

اس کے علاوہ  سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا اکاؤنٹ متحدہ عرب امارات میں رجسٹرڈ دیکھائی دیا۔

 

 

 

اس کے علاوہ جے یو آئی رہنما مولانا فضل الرحمن کا اکاؤنٹ جرمنی سے آپریٹ ہو رہا ہے۔

عمران خان کی بہنیں پاکستان میں ہیں لیکن اُن کے اکاؤنٹس کی ایک ہی لوکیشن ہے یعنی کہ یہ تینوں ایکس اکاؤنٹ مغربی ایشیا کے کسی ملک سے وہی شخص چلا رہا ہے، جو عمران خان کا اکاؤنٹ ہینڈل کررہا ہے، یاد رہے مغربی ایشیا میں کئی ممالک ہیں، جن میں اسرائیل بھی آتا ہے۔ pic.twitter.com/79mVf8i98m

— Dr Shama Junejo (@ShamaJunejo) November 23, 2025

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہنا تھا کہ ظاہر کر ایکس پر کے لیے

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری