آئی ایم ایف نے حکومتی کارکردگی کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
ملی یکجہتی کونسل کے صدر نے کہا کہ جب تک حکمران طبقہ آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکل کر آزاد معاشی پالیسی نہیں اپنائے گا، ملک ترقی نہیں کر سکتا، پاکستان کی معیشت کا حل بیرونی قرضوں پر انحصار نہیں بلکہ اسلامی معاشی اصولوں، خود انحصاری، کرپشن کے خاتمے اور منصفانہ معاشی نظام کے نفاذ میں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علما پاکستان (نورانی) و ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے حکومتی کارکردگی کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومتی معاشی پالیسیاں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں، عوام کو معاشی ریلیف دینے کے بجائے قرضوں پر چلنے کی پالیسیوں نے مہنگائی، بے روزگاری اور غربت میں خطرناک حد تک اضافہ کر دیا ہے، ملک کو معاشی تباہی سے نکالنے کا واحد راستہ نظامِ مصطفے ﷺ کے نفاذ اور اسلام کے عادلانہ معاشی نظام کے قیام میں ہے۔ ایک بیان میں صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ حکومت مطلوبہ اصلاحات کرنے میں ناکام رہی ہے، ٹیکس اہداف پورے نہیں ہوئے، توانائی کے شعبے میں بدانتظامی بڑھ گئی ہے، گردشی قرضہ ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے اور روپے کی قدر مسلسل گرتی جا رہی ہے یہ سب شواہد اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ معاشی ٹیم ملک کو استحکام دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے دبا پر ایسے فیصلے کئے جن کا براہِ راست بوجھ عوام پر پڑا ہے، پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں، صنعتیں زوال کا شکار ہیں جبکہ متوسط اور غریب طبقہ شدید معاشی بدحالی سے دوچار ہے، آئی ایم ایف کی پالیسیاں پاکستان کی معاشی خود مختاری کے خلاف ہیں اور ان پر عمل درآمد سے ملکی ادارے، وسائل اور معیشت بیرونی کنٹرول میں چلے جاتے ہیں، جو قومی سلامتی کے لئے بھی خطرناک ہے جبکہ حکمران اپنی عیاشیوں، پروٹو کول اور شاہانہ طرزِ زندگی ترک کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی طرف سے بار بار پاکستان کو معاشی بدانتظامی پر تنبیہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملک موجودہ ناکام پالیسیوں کے ساتھ مزید نہیں چل سکتا، اب بھی وقت ہے کہ حکومت آنکھیں کھولے، اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے اور عوام دوست حقیقی معاشی اصلاحات لائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف نے کہا
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔