معاشی بے ضابطگیوں پرآئی ایم ایف رپورٹ ،اپوزیشن اتحادنے تحقیقات کا مطالبہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
شہباز شریف کہتے تھے کرپشن کا ایک کیس بتا دیں، 5300 ارب کی کرپشن کرنے والوں پر مکمل خاموشی ہے، ہمیں ان لوگوں کی لسٹ فراہم کی جائے جنہوں نے کرپشن کی ،رہنما تحریک تحفظ آئین
عمران خان کو ڈھکوسلے کیس میں قید کر رکھا ہے،48 گھنٹوں سے زائد وقت گزر گیا کسی حکومتی نمائندے نے آئی ایم ایف رپورٹ کی تردید نہیں کی، محمد زبیر،تیمور سلیم جھگڑا ودیگر کی پریس کانفرنس
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماء اور سابق گورنر سندھ زبیر عمر کا کہنا ہے کہ عمران خان کو ڈھکوسلے کیس میں ڈھائی سال سے قید کر رکھا ہے اور اب آئی ایم ایف بتا رہا ہے 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوگئی، شہباز شریف کہتے تھے مجھے کرپشن کا ایک کیس بتا دیں، اب آئی ایم ایف کہتا ہے 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے، بتائیں کن لوگوں سے ریکوری ہوئی؟ ان کے نام کیا ہیں؟ کون سی سزائیں ملیں؟ ہمیں لسٹ چاہیے۔شہباز حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی کرپشن سے متعلق رپورٹ 3 ماہ تک چھپائے رکھنے کا انکشاف کرتے ہوئے زبیر عمر نے کہا کیوں حکومت تین ماہ تک رپورٹ دبا کر بیٹھی رہی؟ آئی ایم نے دباؤ ڈالا تو رپورٹ پبلک ہوئی۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہباز شریف باہر ممالک میں بیٹھ کر کہتے ہیں کہ مجھے کرپشن کا ایک کیس بتا دیں، ابھی آئی ایم ایف کی رپورٹ میں آیا ہے 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے، اڑھائی سال پہلے ایس آئی ایف سی بنایا گیا کہ سو بلین ڈالر کی سرمایہ کاری آئے گی مگر ایک بلین ڈالر بھی نہیں آئی، اب آئی ایم ایف رپورٹ نے کچا چٹھا کھول دیا کہ سرمایہ کاری تو کیا وہاں تو شفافیت بھی نہیں ہے، من پسند افراد کو ٹھیکے دیٔے جاتے ہیں، آئی ایم ایف کی رپورٹ کہہ رہی ہے یہ لوگ ایسی پالیسی بناتے ہیں جس سے امیر اور زیادہ امیر اور غریب کو غریب رکھا جاتا ہے۔سابق گورنر سندھ کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اپنے جھوٹے کیس میں ڈھائی سال سے جیل میں ڈال کر رکھا ہے جس کیس کی بنیاد نہیں ہے، عمران خان پر کرپشن کا جھوٹا الزام لگاکر جیل میں ڈالا ہے مگر 5300 ارب کی کرپشن کرنے والوں پر مکمل خاموشی ہے، ہمیں ان لوگوں کی لسٹ فراہم کی جائے جنہوں نے کرپشن کی ہے، یہ دھاندلی شدہ الیکشن کے نتیجے میں حکومت میں آئے ہیں، ان کے پاس قانون سازی کا مینڈیٹ ہی نہیں تھا، پی ٹی آئی کے چیٔرمین عمران خان، وائس چیٔرمین شاہ محمود اور لیڈرشپ کو آپ نے جھوٹے کیسز میں جیل میں ڈالے رکھا ہے اپنی جعلی حکومت قائم رکھنے کے لیے یہ سب کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 27ویں غیر آئینی ترمیم مزید معیشت کو تباہ کرے گی، جب شفافیت نہیں ہوتی تو ملک میں انویسٹر نہیں آتا، آپ خود ججز لگائیں گے اگر انویسٹر کا گورنمنٹ آرگنائزیشن سے کوئی جھگڑا ہوگیا تو انویسٹر کہاں جائے گا؟ ہم تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے آج مطالبہ کرتے ہیں کہ ان 5300 ارب کی کرپشن کرنے والوں کی لسٹ فراہم کی جائے، وہ اشرافیہ کون ہیں جنہوں نے اس ملک کو بے دردی سے لوٹا ہے، نیب نے بتایا 5300 ارب کی ریکوری کی، فہرست کہاں ہے؟ کس سے کی ہے؟ قومی خزانے میں 5300 ارب آئے تو گئے کہاں ہیں؟ لوٹنے والے کون تھے؟ کیا اِن کو ٹانگنا نہیں چاہیٔے؟۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف کی کرپشن کرپشن کا رکھا ہے ارب کی
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔