data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور : وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ صوبے میں نچلی سطح پر کرپشن کے مکمل خاتمے کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، تاہم ٹاپ لیول پر کرپشن اب ممکن نہیں رہی۔ وہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے 27ویں کورس کے شرکاء سے ملاقات کر رہی تھیں۔

وزیراعلیٰ نے ورکشاپ کے شرکاء کو حکومت پنجاب کے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں سے آگاہ کیا، جنہیں شرکاء نے سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن “بنیان مرصوص” کی کامیابی کے بعد پاکستان عالمی سطح پر مزید باوقار ہوگیا ہے۔

مریم نواز نے بتایا کہ حالیہ سیلاب کے دوران لاکھوں افراد اور مویشیوں کو محفوظ بنایا گیا، جبکہ بروقت طبی امداد سے وبائی امراض کا پھیلاؤ روکا گیا۔ اسموگ کنٹرول کیلئے کی جانے والی انتھک محنت کے باعث اس سال اسموگ کا مجموعی اثر کم رہا، اگرچہ سرحد پار فصلوں کی باقیات جلانے کے اثرات لاہور تک پہنچتے ہیں۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ووٹ کھونے کے خوف کے بغیر ہی بڑے فیصلے ممکن ہوتے ہیں۔ تجاوزات کے خاتمے اور میرٹ کے نفاذ پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، مگر سفارش کی نفی اور شفافیت حکومت کا نصب العین ہے۔ انہوں نے کہا کہ گندم نہ خریدنے کے فیصلے پر اعتراضات ہوئے، لیکن پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں آٹا، گندم اور روٹی کی قیمتیں نہیں بڑھیں۔

مریم نواز نے مزید بتایا کہ مہنگائی کی شرح 40 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد تک آگئی ہے۔ صوبے میں 30 ہزار کلومیٹر طویل 1650 سڑکوں کی تعمیر جاری ہے اور ای-ٹینڈرنگ کے ذریعے اربوں روپے بچائے گئے۔ خصوصی افراد کیلئے ہر ای-بس میں وہیل چیئر کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

ویب ڈیسک فاروق اعظم صدیقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مریم نواز

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع