چیٹ جی پی ٹی میں اب گروپ چیٹ کا فیچر دنیا بھر میں دستیاب
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اوپن اے آئی نے اپنے مقبول اے آئی چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی میں گروپ چیٹ کا فیچر دنیا بھر کے تمام صارفین کے لیے متعارف کروا دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق اس فیچر کے ذریعے اب ایک گروپ چیٹ میں زیادہ سے زیادہ 20 افراد شامل ہو سکیں گے اور گروپ میں ہونے والی گفتگو چیٹ جی پی ٹی کی میسج ریٹ میں شمار نہیں ہوگی، گروپ چیٹس کے لیے چیٹ جی پی ٹی 5.
اوپن اے آئی نے بتایا کہ گروپ چیٹس میں صارفین کی حفاظت اور پرائیویسی کو یقینی بنایا جائے گا، کسی کو اس کی مرضی کے بغیر گروپ چیٹ میں شامل نہیں کیا جا سکے گا اور انویٹیشن قبول کرنے کے بعد ہی وہ گروپ کا حصہ بنے گا۔ گروپ میں شامل ہونے کی کم از کم عمر 18 سال ہونا ضروری ہے۔
گروپ چیٹس میں ہر فرد کی اپنی پروفائل، یوزرنیم اور پروفائل فوٹو ہوگی تاکہ سب کو معلوم ہو کہ میسج کس نے بھیجا ہے، اور صارفین میسجز پر ایموجیز سے ری ایکٹ بھی کر سکیں گے۔
اوپن اے آئی کا مقصد اس نئے فیچر کے ذریعے دفتر کی ٹیمیں، دوست اور خاندان کے افراد ایک ساتھ مل کر کام اور گفتگو کر سکیں، گروپ چیٹس میں چیٹ جی پی ٹی کے تمام اہم ٹولز جیسے ویب سرچ، امیج جنریشن، اپ لوڈز اور فائل شیئرنگ بھی دستیاب ہوں گے۔
یہ نیا فیچر صارفین کو نہ صرف اے آئی سے بلکہ ایک دوسرے سے رابطے اور مشترکہ کام کرنے کے لیے بھی بہتر تجربہ فراہم کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی گروپ چیٹس گروپ چیٹ اے ا ئی
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔