لکھنؤ(ویب ڈیسک)بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر لکھنؤ میں شادی سے انکار کرنے پر نوجوان نے 19 سالہ لڑکی کو گلا کاٹ کر قتل کر دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق لکھنؤ کے علاقے موہن لال گنج میں 19 سالہ لڑکی کو اس کے شناسا نوجوان نے مبینہ طور پر گلا کاٹ کر قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت پریانشی کے نام سے ہوئی ہے، جو اپنے گھر میں مردہ پائی گئی، ملزم آلوک اور پریانشی ایک دوسرے کو جانتے تھے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق آلوک نے اسے اس وقت حملے کا نشانہ بنایا جب لڑکی نے اس کی شادی کی پیشکش مسترد کر دی، دونوں کے درمیان واقعے سے کچھ دیر پہلے شدید جھگڑا ہوا تھا۔تحقیقات کے مطابق آلوک موٹر سائیکل پر گھر آیا اور جھگڑے کے دوران اس نے پریانشی کو چاقو مارا اور بعد ازاں اس کا گلا کاٹ دیا، واردات کے فوراً بعد وہ موقع سے فرار ہو گیا۔پڑوسیوں نے پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد اے ڈی سی پی اور اے سی پی سمیت سینئر افسران فورس کے ساتھ موقع پر پہنچے، جبکہ جائے واردات سے فرانزک ٹیم اور فنگر پرنٹ ماہرین نے شواہد جمع کیے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ قتل کی وجہ ذاتی تنازع تھی، فرار ملزم کو پکڑنے کے لیے کوششیں جاری ہیں، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ فرانزک تحقیقات، گواہوں کے بیانات اور دیگر قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔اس سے قبل اسی ہفتے پریاگ راج میں ایک فوجی اہلکار کو اپنی 17 سالہ گرل فرینڈ کا گلا کاٹ کر قتل کرنے پر گرفتار کیا گیا۔پولیس کے مطابق دیپک نے لڑکی کو اس وقت قتل کیا جب وہ شادی پر اصرار کر رہی تھی، جبکہ وہ پہلے ہی منگنی کر چکا تھا۔ملزم نے 10 نومبر کو لڑکی کو باغ لے جا کر قتل کیا اور لاش کو دفن کر دیا، 5 دن بعد مقتولہ کی لاش برآمد ہوئی۔
اسی طرح کا ایک اور واقعہ گزشتہ ماہ کانپور میں بھی پیش آیا تھا، جہاں ایک 20 سالہ لڑکی اکنکشا عرف ماہی کے قتل کا کیس بھی حل کیا گیا۔اکنکشا کو اس کے ساتھ تعلق میں رہنے والے شخص نے گلا دبا کر قتل کیا اور دوست کی مدد سے لاش کو بیگ میں بند کرکے دریا میں پھینک دیا تھا، 2 ماہ کی تفتیش کے بعد دونوں ملزمان گرفتار کر لیے گئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: گلا کاٹ کر قتل کر کے مطابق لڑکی کو کر دیا قتل کی

پڑھیں:

کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار

پشاور:

خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔

ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: بھینس کالونی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ، دلہا گرفتار
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی