بھارت: شادی سے انکار، نوجوان نےدوشیزہ کوگلا کاٹ کر قتل کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
لکھنؤ(ویب ڈیسک)بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر لکھنؤ میں شادی سے انکار کرنے پر نوجوان نے 19 سالہ لڑکی کو گلا کاٹ کر قتل کر دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق لکھنؤ کے علاقے موہن لال گنج میں 19 سالہ لڑکی کو اس کے شناسا نوجوان نے مبینہ طور پر گلا کاٹ کر قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت پریانشی کے نام سے ہوئی ہے، جو اپنے گھر میں مردہ پائی گئی، ملزم آلوک اور پریانشی ایک دوسرے کو جانتے تھے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق آلوک نے اسے اس وقت حملے کا نشانہ بنایا جب لڑکی نے اس کی شادی کی پیشکش مسترد کر دی، دونوں کے درمیان واقعے سے کچھ دیر پہلے شدید جھگڑا ہوا تھا۔تحقیقات کے مطابق آلوک موٹر سائیکل پر گھر آیا اور جھگڑے کے دوران اس نے پریانشی کو چاقو مارا اور بعد ازاں اس کا گلا کاٹ دیا، واردات کے فوراً بعد وہ موقع سے فرار ہو گیا۔پڑوسیوں نے پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد اے ڈی سی پی اور اے سی پی سمیت سینئر افسران فورس کے ساتھ موقع پر پہنچے، جبکہ جائے واردات سے فرانزک ٹیم اور فنگر پرنٹ ماہرین نے شواہد جمع کیے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ قتل کی وجہ ذاتی تنازع تھی، فرار ملزم کو پکڑنے کے لیے کوششیں جاری ہیں، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ فرانزک تحقیقات، گواہوں کے بیانات اور دیگر قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔اس سے قبل اسی ہفتے پریاگ راج میں ایک فوجی اہلکار کو اپنی 17 سالہ گرل فرینڈ کا گلا کاٹ کر قتل کرنے پر گرفتار کیا گیا۔پولیس کے مطابق دیپک نے لڑکی کو اس وقت قتل کیا جب وہ شادی پر اصرار کر رہی تھی، جبکہ وہ پہلے ہی منگنی کر چکا تھا۔ملزم نے 10 نومبر کو لڑکی کو باغ لے جا کر قتل کیا اور لاش کو دفن کر دیا، 5 دن بعد مقتولہ کی لاش برآمد ہوئی۔
اسی طرح کا ایک اور واقعہ گزشتہ ماہ کانپور میں بھی پیش آیا تھا، جہاں ایک 20 سالہ لڑکی اکنکشا عرف ماہی کے قتل کا کیس بھی حل کیا گیا۔اکنکشا کو اس کے ساتھ تعلق میں رہنے والے شخص نے گلا دبا کر قتل کیا اور دوست کی مدد سے لاش کو بیگ میں بند کرکے دریا میں پھینک دیا تھا، 2 ماہ کی تفتیش کے بعد دونوں ملزمان گرفتار کر لیے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گلا کاٹ کر قتل کر کے مطابق لڑکی کو کر دیا قتل کی
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔